جعلسازی اور فراڈ کے ذریعے کسٹمز گودام سے ڈیڑھ کروڑمالیت کا سامان کی چوری، ایف آئی آر درج، 3 ملزمان گرفتار

کراچی (خصوصی رپورٹ)کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے فراڈ اور جعلسازی کے ایک بڑے اسکینڈل کا پردہ فاش کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ مقدمے میں نامزد تین اہم ملزمان میں شامل خریدارطلحہ حفیظ ،سہولت کار خان محمداورمحکمہ کسٹمزکا سپاہی محمد تحسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مرکزی ملزم محمد شہزاد اسلم فرار ہے ،جو کہ فی الحال روپوش ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سیف نامی ایک اور سہولت کار کی تلاش جاری ہے۔کسٹمز حکام کے مطابق کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کو اطلاع ملی تھی کہ کسٹم ہاﺅس کراچی کے اسٹیٹ ویئر ہاﺅس سے نیلامی میں کروڑوں روپے کا قیمتی سامان (ٹیبلٹس اور موبائل اسیسریز) جعلی اور فرضی دستاویزات کی بنیاد پر اور سرکاری خزانے میں رقم جمع کرائے بغیر نکال لیا گیا ہے۔اطلاع ملنے پر کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) کی منظوری سے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کسٹم ہاﺅس کے آکشن سیکشن سے مذکورہ لاٹ کی اصل فائل ہی غائب تھی۔ویئر ہاﺅس کے ریکارڈ کی چھان بین اور متعلقہ چالان، ڈیلیوری آرڈر اور پیمنٹ رسیدوں (سی پی آر) کی تصدیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ تمام دستاویزات بالکل جعلی اور من گھڑت تھیں اور سرکاری خزانے میں کوئی رقم یا انکم ٹیکس جمع ہی نہیں کرایا گیا تھا۔ملزمان کی جانب سے کسٹمزحکام کی ملی بھگت سے بغیر کسی ادائیگی کے غیر قانونی طور پر نکالے گئے سامان میں سام سنگ، ریڈمی، لینووو کے سیکڑوں ٹیبلٹس، ایپل ایئر پوڈز، مارشل اورجے بی ایل کے ساﺅنڈ سسٹم، ایپل اور سام سنگ کے چارجرز اور دیگرپرزاجات شامل ہیں۔دستاویزات کے مطابق جعلی طریقے سے کسٹم سے نکالے جانے والے سامان کی مالیت ایک کروڑ26لاکھ73ہزارروپے ،جس پر 55لاکھ30ہزارمالیت کے ڈیوٹی وٹیکسزکی چوری کی گئی جبکہ سامان کی کل مالیت ایک کروڑ82لاکھ سے زائد ہے ۔محکمہ کسٹمزکی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے مطابق مرکزی ملزم محمد شہزاد اسلم (سپاہی/کلرک، آکشن سیکشن) نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے آکشن لاٹ کی تفصیلات اور قیمت ڈیڑھ کروڑروپے خریدار طلحہ حفیظ تک پہنچائی۔ مذکورہ خریدار کی جانب سے پیشگی ادائیگی سے انکار پر ملزم شہزاد اسلم نے جعلی دستاویزات تیار کیں اور جعلی چالان اور پیمنٹ رسیدیں بنا کر خریدار کو دے دیں تاکہ وہ گیٹ پاس اور ریلیز آرڈر حاصل کر سکے۔ سامان نکلوانے کے بعد خریدار سے ایک کروڑ 50 لاکھ روپے نقد وصول کر کے خود ہضم کر لیے گئے اور سرکاری خزانے میں ایک روپیہ بھی جمع نہیں کرایا گیا۔ اس تمام عمل میں دھوکہ دہی چھپانے کے لیے آکشن سیکشن سے اصل فائل بھی غائب کر دی گئی۔




