Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

عدالت نے غلط بیانی اور کسٹمز ڈیوٹی چوری کے مقدمے میں عدم ثبوت پر 4 ملزمان کو باعزت بری کردیا۔

کراچی (کسٹم بلیٹن) کسٹمزکورٹ نے چین سے پلاسٹک انجکشن مولڈنگ مشینیں درآمد کرنے کے دوران غلط بیانی اور کسٹمز ڈیوٹی چوری کے الزام میں نامزد 4 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام الزامات سے باری الذمہ کر دیا ہے۔کسٹمز کورٹ کی جج ڈاکٹر شبانہ وحید نے مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان باعزت بری کردیاہے۔اپریزمنٹ ویسٹ کراچی نے ایف آئی آردرج کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ میسرز مراد علی ٹریڈنگ کمپنی کے پروپرائٹر مراد علی صبا ءنے کلیرنگ ایجنٹ میسرز حسن امپیکس کے نمائندے حسن فیاض کے ذریعے چین سے پرانی اور استعمال شدہ پلاسٹک انجکشن مولڈنگ مشینیں، کرشرز اور لوہے کے سانچے درآمد کرنے کی ڈکلیئریشن جمع کروائی تھی۔ تاہم کسٹم حکام کی جانب سے معائنے کے دوران دعویٰ کیا گیا کہ یہ کمپیوٹرائزڈ مشینیں تھیں جن پر اصلی سال ساخت کی نمبر پلیٹس چھپا کر جعلی پلیٹس لگائی گئی تھیں اور غیر ڈکلیئرڈ ہاپرز و کلر مکسرز بھی برآمد ہوئے تھے۔ کسٹمز کی جانب سے لیبر انچارج ارشد علی اور کے آئی سی ٹی کے مزدور صلاح الدین کو بھی اس مبینہ ہیرا پھیری میں سہولت کاری کے الزام میں نامزد کیا گیا تھا۔جس پر مذکورہ کمپنی نے میسرزایکسپرٹ لاءایسوسی ایٹ سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ انیل ضیاءکو مقدمہ کی پیروی کے لئے نامزدکیاانیل ضیاءکے ٹھوس ثبوت کو مدنظررکھتے ہوئے محکمہ کسٹمزکے خلاف مقدمہ کا فیصلہ سنایا۔عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ استغاثہ (پراسیکیوشن) ملزمان پر جرم ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ جرح کے دوران استغاثہ کے گواہان (ایپریزنگ آفیسرز) میاں محمد عمران عمر اور محمد احمد نے اعتراف کیا کہ تکنیکی ثبوت کی عدم موجودگی، مشینوں کے کمپیوٹرائزڈ ہونے سے متعلق کسی ماہر کی رائے، مینوفیکچرر کا سرٹیفکیٹ، ٹیکنیکل کیٹلاگ یا فنکشنل ٹیسٹ کی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی گئی جبکہ کے آئی سی ٹی کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں صرف دو افراد کی گفتگو دکھائی گئی مگر آواز نہ ہونے کی وجہ سے رشوت یا سازش کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا۔فیصلہ میں کہاگیاہے کہ کلیرنگ ایجنٹ نے صرف درآمد کنندہ کی فراہم کردہ دستاویزات کی بنیاد پر گڈز ڈکلیئریشن فائل کی تھی اور دستاویزات میں تبدیلی یا جعل سازی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔فاضل جج نے فیصلے میں تحریر کیا کہ قانون کے تحت محض ڈکلیئریشن میں فرق پایا جانا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ ملزمان کی نیت اور دانستہ چوری کا ثبوت فراہم کرنا ضروری تھا جو استغاثہ فراہم نہ کر سکا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محض شک کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی اور شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کے حق میں جاتا ہے۔عدالت نے مراد علی صبا، حسن فیاض، ارشد علی خان اور صلاح الدین کوباعزت بری کر دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button