ڈی پی پی کا بڑا اقدام، چھالیہ کے ریلیزآرڈرکی فیس میں لاکھوں روپے کا اضافہ

کراچی (کسٹم بلیٹن)وفاقی حکومت نے پاکستان پلانٹ کوارنٹائن رولز 2019 میں اہم ترمیم کرتے ہوئے چھالیہ و درآمدی اشیاءکے ریلیزآرڈر، معائنہ اور کوارنٹائن کلیئرنس کی فیسوں کے حصول میں بڑااضافہ کردیاہے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن ی جانب سے جاری کردہ نئے ایس آر او 1423 کے تحت درآمدی چھالیہ کے ریلیزآرڈر، بائیو سیکیورٹی کلیئرنس فیس میں غیر معمولی اور بھاری اضافہ کر دیا گیا ہے۔ترمیمی ایس آراوسے قبل درآمدی چھالیہ کے ریلیزآرڈرکے لئے پانچ ہزرروپے وصول کئے جاتے تھے جبکہ سرکاری نوٹیفکیشن اور نئے شیڈول کے مطابق درآمد شدہ چھالیہ کے ریلیزآرڈرکے لیے فیس اب 28ہزار روپے فی میٹرک ٹن یعنی ایک 28میٹرک ٹن کے کنٹینرکے ریلیزآرڈرکے لئے درآمدکنندہ کو 7لاکھ 84ہزارروپے کی ادائیگی کرنالازمی ہوگی ۔ تجارتی ذرائع کے مطابق، چھالیہ کا ایک درآمدی کنٹینر یا شپمنٹ سینکڑوں میٹرک ٹن پر مشتمل ہوتی ہے، جس کے باعث اب ایک ہی شپمنٹ کے ریلیزآرڈرکی فیس پانچ ہزار روپے کے بجائے لاکھوں روپے تک جا پہنچی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صرف چھالیہ دیگر درآمدی و برآمدی اشیاءپر بھی نئی فیسوں میں بھی اضافہ کیاگیاہے جس میں چھالیہ 28ہزارروپے میٹرک ٹن ،پان کے پتے 15ہزارروپے فی میٹرک ٹن،کپاس 55 روپے فی میٹرک ٹن،سبزیاں و زرعی مصنوعات 55روپے فی میٹرک ٹن،لکڑی و لکڑی کی مصنوعات ایک ہزار روپے فی میٹرک ٹن،دیگر تمام درآمدی اشیائ170 روپے فی میٹرک ٹن،برآمدی اشیاءکا معائنہ و سرٹیفکیٹ 50 روپے فی میٹرک ٹن،نوٹیفکیشن کے مطابق ہر سال یکم جولائی کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ انٹربینک شرح مبادلہ کے مطابق ان فیسوں کا ازخود جائزہ لیا جائے گا اور ان میں ترمیم کی جائے گی۔ علاوہ ازیں، تمام فیسوں کی وصولی اب پاکستان سنگل ونڈو کے پورٹل کے ذریعے ڈیجیٹل انداز میں کی جائے گی اور رقم کونیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی فنڈ میں جمع کرایا جائے گا۔


