چھالیہ کی درآمد کے نئے طریقہ کار پر عملدرآمد میں تاخیر، پری شپمنٹ انسپکشن سمیت سنگین انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف

کراچی(کسٹم بلیٹن)انڈونیشیا سے چھالیہ کی درآمد کے لیے منظور شدہ نئے درآمدی طریقہ کار پر عملدرآمد میں غیر معمولی تاخیر، پری شپمنٹ انسپکشن (برآمد سے قبل جانچ پڑتال) کے نظام میں رکاوٹیں، اور داخلی مزاحمت کے باعث سنگین انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اس ضمن میں پلانٹ پروٹیکشن ایڈوائزر و ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو ایک تفصیلی ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی ہے، جس میں ذمہ دار افسران کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق 25 اگست 2025 کو وزارتِ تجارت اور اس کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں چھالیہ کی درآمد کی پوری سپلائی چین کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جہاں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ متضاد لیبارٹری رپورٹس، بندرگاہوں پر تاخیر اور عدالتی تنازعات سے بچنے کے لیے چھالیہ کی درآمد کو برآمد سے قبل جانچ پڑتال (پری شپمنٹ انسپکشن) اور بین الاقوامی آف شور تصدیقی نظام سے مشروط کیا جائے۔اسی فیصلے کی روشنی میں محکمہ تحفظِ نباتات (ڈی پی پی) نے 29 ستمبر 2025 کو چھالیہ کی درآمد کے لیے نیا جامع طریقہ کار تیار کیا، جو پاکستان پلانٹ کوارنٹائن رولز 2019، بین الاقوامی نباتاتی تحفظ معاہدے (آئی پی پی سی) اور امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 سے ہم آہنگ تھا۔ اس طریقہ کار میں واضح طور پرکہاگیاہے کہ چھالیہ کے ہرکنسائمنٹ کی پری شپمنٹ انسپکشن برآمد کنندہ ملک کے تسلیم شدہ اداروں کے ذریعے ہوگی اورصرف وہ کنسائمنٹ پاکستان بھیجی جائے گی جس کی جانچISOسے منظور شدہ لیبارٹری میں ہواس کے علاوہ برآمد کنندگان اور پیکنگ یونٹس کی رجسٹریشن لازمی ہوگی،جدید پیکنگ، لیبلنگ اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کیا جائے گااورکلیئرنس کا عمل پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلو) کے ذریعے خودکار اور شفاف بنایا جائے گا۔ڈائریکٹرجنرل ڈی پی پی کے مطابق، جب انہوں نے 10 اکتوبر 2025 کو عہدے کا چارج سنبھالا تو بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ محکمہ تحفظِ نباتات کی جانب سے 17 اکتوبر 2025 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں وزارت کی منظور شدہ پالیسی سے ہٹ کر لازمی لیباریٹری ٹیسٹ اور دوبارہ ٹیسٹنگ شامل کر دی گئی، جس سے پری شپمنٹ انسپکشن کے پورے نظام کو غیرموثر بنا دیا گیا اور ڈیجیٹل آئی آرایم ایس نظام کے ذریعے کلیئرنس ناممکن ہو گئی۔رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر محمد باسط اور محمد عمر نے نہ صرف پری شپمنٹ انسپکشن اور آف شور جانچ کے تصور کی مخالفت کی بلکہ فائلوں میں تبدیلیاں کر کے نئے درآمدی طریقہ کار پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالی۔ ان اقدامات کے باعث چھالیہ کی درآمد کے لیے رسک بیسڈ، خودکار اور شفاف نظام تاخیر کا شکار ہوا۔مزید انکشاف ہوا کہ انہی افسران کی سابقہ پالیسیوں کے نتیجے میں انڈونیشیا کے ساتھ پاکستان کی کینو برآمدات کے لیے زرعی زہروں کی جانچ 8 سے بڑھ کر 24 اقسام تک پہنچ گئی، جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ زرعی و نباتاتی معاہدوں میں بھی غیر ضروری تاخیر پیدا ہوئی۔صورتحال کے پیش نظر 31 اکتوبر 2025 کو محکمہ تحفظِ نباتات میں انتظامی ردوبدل کیا گیا، تاہم اس کے بعد بھی بعض افسران اور ان کی ٹیموں کی جانب سے اصلاحاتی اقدامات میں رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث معاملہ عدالت تک بھی پہنچا۔رپورٹ کے مطابق، پاکستان کسٹمز کو 16 دسمبر 2025 کو آگاہ کر دیا گیا کہ چھالیہ کی درآمد کے لیے اب تمام گڈز ڈیکلریشنز پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے فائل ہوں گی، جبکہ مینول کلیئرنس نظام کو روک دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، انڈونیشیا کے متعلقہ نباتاتی ادارے اور پری شپمنٹ انسپکشن ایجنسیوں سے مشاورت کے بعد جلد ہی نئے درآمدی طریقہ کار پر مکمل عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا




