درآمدی اسکریپ پر کھربوں روپے کی غیرضروری ٹیکس چھوٹ حاصل کی گئی، ای ایف ایس اسکیم کے تحت کلیئر اسکریپ کنسائمنٹس کی جانچ پڑتال کی ضرورت

کراچی(کسٹم بلیٹن) اسکریپ کے دوسوسے زائد درآمدکنندگان نے ایکسپورٹ فیسی لیٹیشن اسکیم کا غلط استعمال کرکے گذشتہ چارسال کے دوران اسکریپ کے دولاکھ سے زائد کنسائمنٹس کی درآمدکرکے 258ارب روپے زائد کے ڈیوٹی وٹیکسزکی ادائیگیاں نہیں کی گئیں ۔دستاویزات کے مطابق تیار کردہ ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 2021 سے مارچ 2026 کے دوران اسکریپ کی درآمدات میں ایکسپورٹ فیسی لیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت بڑے پیمانے پر ڈیوٹی اور ٹیکس چھوٹ دی گئی لیکن درآمدکئے جانے والے کمپریسراسکریپ سے نکلنے والے تانبے کی کچھ مقداربرآمدکی گئی اورباقی ماندہ تانبے کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کرکے اربوں روپے کے ڈیوٹی وٹیکسزکی چوری کی گئی ،ایکسپورٹ فیسی لیٹیشن اسکیم کے تحت ٹیکس چھوٹ کی مجموعی مالیت تقریباً دوکھرب 58ارب 79کروڑروپے بنتی ہے،تحقیقاتی رپورٹ میں ایسے منظم مافیاکی نشاندہی ہے جو اسکریپ کے نام پر خالص تانباسمیت دیگرقیمتی دھاتیں اورقیمتی اشیاءدرآمدکرکے مبینہ طورپرمقامی مارکیٹ میں فروخت کررہے ہیں اورکسٹم افسران کے ساتھ مل کرکروڑوں روپے کی رشوت کے عوض ایکسپورٹ فیسی لیٹیشن اسکیم کے تحت درآمدی تانبے کی برآمدات میں استعمال ہونے کی مکمل کھپت دیکھائی جاتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر اسکریپ کی 4 لاکھ 50 ہزار 291گڈزڈیکلریشن فائل کی گئیں جبکہ ڈیکلریشنز کا تجزیہ کیا گیا، جن میں سے 1 لاکھ 68 ہزار 954 ڈیکلریشنز (44.19 فیصد) ای ایف ایس سے منسلک پائے گئے، ان درآمدات کا کل وزن 8.12 ارب کلوگرام ہے جس کی برآمدی استعمال کے ساتھ تصدیق ضروری قرار دی گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ای ایف ایس سے منسلک درآمدات پر مجموعی طورپر258ارب روپے سے زائد کے ڈیوٹی وٹیکسزکی سہولت حاصل کی گئی جس میں6.22 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی، 89.70 ارب روپے سیلز ٹیکس اور 162.88 ارب روپے انکم/ودہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ ظاہر کی گئی، تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اصل تشویش صرف کسٹمز ڈیوٹی نہیں بلکہ مکمل ٹیکس پیکج ہے جس کی قانونی حیثیت اور برآمدی استعمال کی جانچ ضروری ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے میسرزمغل آئرن اینڈ اسٹیل انڈسٹریز لمیٹڈ،میسرزکینن میٹل ورکس،میسرزبرادرز میٹل ورکس (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزپرائم اسٹیل ری رولنگ ملز،میسرزفرنٹیئر فاﺅنڈری اسٹیل (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزاے بی ایم ری سائیکلنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزکاپر ورلڈ (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزاے کے برادرز میٹل (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزمالکہ میٹلز (ایس ایم سی پرائیویٹ)لمیٹڈ،میسرزہنزہ اسٹیل (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزاللہ توکل میٹلز (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزانٹر مارکیٹ انٹرنیشنل،میسرزاے کے اسمیلٹرز اینڈ ری رولر (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزعرفان انجینئرنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزایچ این بی سنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرززم زم انٹرنیشنل ری سائیکلنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزفرید میٹلز (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزاے ایچ ایف ری سائیکلنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزآر آئی وائی میٹلز ری سائیکلنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزاسلام آباد اسٹیل فرنس اینڈ ری رولنگ ملز،میسرزمیٹل ایشیا،میسرزایچ ایم میٹل (پرائیویٹ) لمیٹڈ،میسرزایم آئی کارپوریشن سمیت211 درآمد کنندگان سامنے آئے، جن میں چند بڑی اسٹیل اور میٹل کمپنیوں کا نمایاں حصہ ہے، محدود تعداد میں کمپنیوں کی جانب سے بڑی مقدار میں ای ایف ایس استعمال کیے جانے کو آڈٹ ترجیح قرار دیا گیا ہے۔مزید برآں رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 2 لاکھ 25 ہزار 473 ڈیکلریشنز میں کسٹمز ڈیوٹی صفر ظاہر ہوئی، تاہم اس کو خودکار طور پر بے ضابطگی قرار نہیں دیا گیا کیونکہ بعض صورتوں میں ٹیرف یا ایس آراو کے تحت یہ قانونی ہو سکتا ہے، البتہ 29 ہزار 691 کیسز ایسے ہیں جہاں ڈیوٹی قابل اطلاق تھی مگر ادا نہیں کی گئی، جن کی الگ سے تصدیق ضروری ہے۔سالانہ تجزیے کے مطابق ای ایف ایس کے تحت اسکریپ درآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر 2023 اور 2025 میں نمایاں اضافہ سامنے آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک مستقل اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا میکانزم ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں متعدد ایسے کیسز بھی سامنے آئے جہاں مختلف کمپنیوں نے ایک ہی یا ملتے جلتے ایڈرسز پر درآمدات کی گئی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق یہ طریقہ کار اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ ایک ہی آپریٹر مختلف کمپنی کے ناموں کے ذریعے ایکسپورٹ فیسی لیٹیشن اسکیم سے فائدہ اٹھا رہا ہے، تاہم اس کی تصدیق کے لیے فزیکل ویری فکیشن ضروری ہے،دستاویزات کے مطابق7 مارچ 2025 کے بعد کے ڈیٹا کو خاص اہمیت دی گئی ہے کیونکہ اس تاریخ کے بعد قانونی فریم ورک میں تبدیلی آئی،تحقیقاتی رپورٹ میں ایسے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اس تاریخ کے بعد بھی رعایتی یا زیرو ڈیوٹی جاری رہی، جسے ایف بی آر کے لیے ایک اہم ٹیسٹ کیس قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ ٹیکس چھوٹ دی گئی بلکہ یہ ہے کہ آیا درآمد شدہ اسکریپ واقعی برآمدی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوا، یا اسے مقامی مارکیٹ میں فروخت کر دیا گیا، اس مقصد کے لیے ایف بی آر کو ویبوک ، پاکستان سنگل ونڈو ، اسٹاک رجسٹرز، پروڈکشن ریکارڈ اور ایکسپورٹ گڈزڈیکلریشن کا مکمل آڈٹ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔واضح رہے کہایکسپورٹ فیسی لیٹیشن اسکیم سے اسکریپ کا نکال دیاگیاہے لیکن اب بھی میٹل کی درآمدکی جارہی ہے ۔مزید یہ کہ اب اسکریپ کی کمرشل درآمدات بالکل بندہوگئی ہے جبکہ کمرشل امپورٹرزنے اپنی سرمایہ کاری ان ٹیکس چوروں کودیناشروع کردی ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان اٹھاناپڑرہاہے



