ڈی جی ٹی اوکاچیمبراور ایسوسی ایشن کے نام غیر قانونی طور پر استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ

کراچی (کسٹم بلیٹن)ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشنز (ڈی جی ٹی او) نے عوام اور کاروباری برادری کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان میںچیمبر،ایسوسی ایشن اورفیڈریشن جیسے الفاظ صرف وہی ادارے استعمال کر سکتے ہیں جو ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ 2013 کے تحت باقاعدہ طور پر لائسنس یافتہ اور رجسٹرڈ ہوں۔ڈی جی ٹی او کی جانب سے جاری عوامی نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ 2013 کے سیکشن3 (1) کے تحت کسی بھی تنظیم کو اس وقت تک تجارتی ادارے (ٹریڈباڈی) کے طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں جب تک اسے وفاقی حکومت کی منظوری سے ڈی جی ٹی او کا لائسنس حاصل نہ ہو۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایکٹ کے سیکشن 5(3) کے مطابق کسی بھی ادارے کے نام یا عنوان میں فیڈریشن ،چیمبر یا ایسوسی ایشن جیسے الفاظ کا استعمال سختی سے ممنوع ہے، جب تک کہ وہ ادارہ ڈی جی ٹی او سے باضابطہ طور پر رجسٹرڈ نہ ہو۔ڈی جی ٹی او کے مطابق اس امر کا نوٹس لیا گیا ہے کہ کئی گروپس اور افراد بغیر لائسنس مختلف ٹریڈباڈیزکے ناموں کے تحت سرگرم ہیں، جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ کاروباری برادری کو گمراہ کرنے کے مترادف بھی ہے۔نوٹس میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ سیکشن 5(3) کے تحت دی گئی رعایت صرف ان اداروں کے لیے ہے جو فن، سائنس، مذہب، فلاح یا کھیل کے فروغ کے لیے قائم ہوں۔یہ رعایت تجارت، صنعت، کاروبار یا خدمات سے وابستہ کسی بھی ادارے پر لاگو نہیں ہوتی۔ڈی جی ٹی او نے تمام غیر مجاز اداروں کو فوری طور پر ایسے ناموں کا استعمال بند کرنے کی ہدایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانے، ذاتی قانونی ذمہ داری اور رجسٹرڈ ٹریڈ آرگنائزیشنز سے نااہلی بھی شامل ہے۔ڈی جی ٹی اوکی جانب سے کاروباری برادری کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر رجسٹرڈ اداروں کی رکنیت اختیار نہ کریں کیونکہ ایسے اداروں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ عوام اور تاجروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کسی بھی تجارتی تنظیم سے رابطے یا شمولیت سے قبل اس کی لائسنس حیثیت ڈی جی ٹی او سے تصدیق کریں۔




