Breaking NewsEham Khabar

بیگیج کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں تاخیر،عدالت نے کسٹمزحکام کووضاحت کے لئے طلب کرلیا

کراچی (کسٹم بلیٹن )میسرزپرامنٹ سروس سینڈیکیٹ کی جانب سے بیگیج کی کلیئرنس میں بلاجوازتاخبرہونے کے سلسلے میں ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست دائرکی گئی جیسے معززعدالت نے منظورکرتے ہوئے 24فروری2026کو سماعت کے لئے کسٹمزحکام کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق بیگیج کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں مبینہ غیر ضروری تاخیر اور کسٹمز حکام کی نا تجربہ کاری کے خلاف میسرزپرامٹ سروس سینڈیکیٹ کے وکیل ایڈوکیٹ منیرالحق نے باقاعدہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی جیسے سندھ ہائیکورٹ نے منظورکرتے ہوئے 24فروری2026کو کیس کی سماعت مقررکردی ہے۔واضح رہے کہ بیگیج ڈیکلریشن جمع کرانے اور مقررہ ڈیوٹی و ٹیکسز کی ادائیگی کے باوجود کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں غیر معمولی تاخیر کی جارہی ہے، جس کے باعث مسافروں کو مالی نقصان اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔ میسرزپرامٹ سروس سینڈیکیٹ کاموقف ہے کہ متعلقہ کسٹمز حکام کی نا تجربہ کاری، غیر ضروری اعتراضات اور قواعد کی غلط تشریح کے باعث جائز کنسائمنٹس بھی بندرگاہ پر روکے جا رہے ہیں۔مذکورہ کمپنی کاکہناہے کہ بیگیج رولز کے تحت مسافروں کے سامان کی کلیئرنس ایک واضح اور سادہ طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے، تاہم عملی طور پر اس عمل کو پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بیگیج کن کو عام تجارتی درآمدات کی طرح ہینڈل کیا جا رہا ہے جو قواعد و ضوابط کی روح کے منافی ہے۔مذکورہ کمپنی نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ کسٹم حکام کی جانب سے غیر ضروری تاخیر نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ بندرگاہی نظام میں بھی رکاوٹ کا سبب بن رہی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی جائے کہ بیگیج کنسائمنٹس کی کلیئرنس قواعد کے مطابق اور بلا تاخیر یقینی بنائی جائے۔تجارتی حلقوں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بیگیج کلیئرنس کے عمل کو شفاف اور تیز بنایا جا سکے اور کاروباری اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button