Breaking NewsEham Khabar

جنگی سرچارج کی غیرقانونی وصولی پر پابندی، شپنگ لائنز کو فوری ہدایات

کراچی(کسٹم بلیٹن) کسٹمز ہیڈکوارٹرز (برآمدات و آئی او سی او) نے شپنگ لائنز کی جانب سے جنگی خطرات سرچارج اور ہنگامی تنازعہ سرچارج کی غیرقانونی وصولی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ 28 فروری 2026 سے قبل روانہ ہونے یا دورانِ سفر موجود کنسائمنٹس پر کسی بھی قسم کا اضافی سرچارج عائد نہ کیا جائے۔ تجارتی برادری کی جانب سے کسٹمز حکام کو شکایات موصول ہوئی تھیں کہ بعض شپنگ لائنز اور ان کے مقامی ایجنٹس مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد جنگی خطرات کے نام پر اضافی سرچارج عائد کر رہے ہیں، حتیٰ کہ ان کنسائمنٹس پر بھی یہ سرچارج طلب کیا جا رہا ہے جو 28 فروری 2026 سے پہلے روانہ ہو چکے تھے یا پہلے ہی سفر میں تھے۔کسٹمز حکام کے جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی کارگو پر اس تاریخ سے پہلے روانگی یا دوران سفر کی صورت میں جنگی خطرات سرچارج عائد کرنا غیر منصفانہ اور بلاجواز ہے۔ تمام شپنگ لائنز اور ان کے مقامی ایجنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے کنسائمنٹس پر نہ تو سرچارج عائد کریں، نہ وصول کریں اور نہ ہی اس کا مطالبہ کریں جو 28 فروری 2026 سے قبل جہاز کے ذریعے روانہ ہو چکے ہوں، ٹرانزٹ میں ہوں یا متعلقہ بندرگاہوں تک پہنچ چکے ہوں۔سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی شپنگ لائن یا اس کے ایجنٹ نے پہلے ہی اس نوعیت کا سرچارج وصول کر لیا ہے یا اس کا مطالبہ کیا ہے تو متاثرہ درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان اس حوالے سے دستاویزی ثبوت کسٹمز حکام کو فراہم کریں تاکہ معاملے کا جائزہ لے کر متعلقہ شپنگ لائن سے رجوع کیا جا سکے اور مناسب کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔کسٹمز حکام کے مطابق شکایت جمع کراتے وقت بل آف لیڈنگ کی نقل، جہاز کی روانگی یا سفر کی تفصیلات، سرچارج سے متعلق انوائس یا ڈیبٹ نوٹ، ادائیگی کا ثبوت، شپنگ لائن یا ایجنٹ کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت اور دیگر متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنا ضروری ہوگا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ متعلقہ کارگو 28 فروری 2026 سے پہلے ہی ٹرانزٹ میں تھا۔سرکلر کے مطابق اس نوعیت کی تمام شکایات اور درخواستیں کلکٹر کسٹمز ہیڈکوارٹرز (ایکسپورٹ و آئی او سی او) کسٹم ہاو¿س کراچی کے دفتر میں جمع کرائی جائیں گی جہاں ان کا تفصیلی جائزہ لے کر متعلقہ شپنگ لائنز کے ساتھ معاملہ اٹھایا جائے گا۔ کسٹمز حکام نے تجارتی تنظیموں اور کاروباری ایسوسی ایشن سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس سرکلر کو اپنے اراکین تک وسیع پیمانے پر پہنچائیں اور متاثرہ درآمد و برآمد کنندگان کو ہدایت دیں کہ وہ اپنے دعووں کے حق میں مکمل دستاویزی ثبوت فوری طور پر جمع کرائیں۔یہ ہدایات کلکٹر کسٹمز ہیڈکوارٹرز (ایکسپورٹ و آئی او سی او) افنان خان کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے ذریعے کی گئی ہیں جس کا مقصد تجارتی برادری کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچانا اور شپنگ لائنز کی جانب سے کسی بھی غیر منصفانہ وصولی کو روکنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button