ریفنڈ کیس میں تاخیر بدانتظامی، سپر ٹیکس وصولی پرپابندی عائد

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) وفاقی ٹیکس محتسب نے ایک اہم اور اصولی فیصلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت جاری کی ہے کہ سپر ٹیکس کی وصولی سے قبل زیر التواءٹیکس ریفنڈز کو لازمی طور پر ایڈجسٹ کیا جائے، بصورت دیگر اس عمل کو ہراسانی اور بدانتظامی تصور کیا جائے گا،ماریہ اشفاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہاگیاہے کہ ٹیکس سال 2024 کے لیے45لاکھ6 ہزار روپے کے ریفنڈ کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست دائر کی تھی، شکایت گزار کے مطابق انہوں نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 114کے تحت ریٹرن فائل کرتے ہوئے ریفنڈ کلیم کیا اور 13 اگست2025 کو ای فائلنگ کے ذریعے درخواست جمع کرائی جبکہ17 دسمبر2025 اور6 جنوری2026 کو یاد دہانیاں بھی کروائیں، تاہم محکمہ کی جانب سے مقررہ وقت میں سیکشن170کی شق4 کے تحت درخواست پر کوئی فیصلہ نہ کیا گیا، کیس کی سماعت کے دوران محکمہ انکم ٹیکس نے مو¿قف اختیار کیا کہ شکایت گزار کی جانب سے ٹیکس ادائیگیوں کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے ریفنڈ پراسیس نہیں ہو سکا اور مطلوبہ دستاویزات کے لیے نوٹس جاری کیا گیا، تاہم سماعت کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ محکمہ نے11 فروری2026 کو سیکشن4C کے تحت15 لاکھ48 ہزار روپے کا سپر ٹیکس عائد کیا، شکایت گزار نے موقف اختیار کیا کہ اسی ٹیکس سال کے ریفنڈ کو واجب الادا سپر ٹیکس کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جائے تاکہ اضافی مالی بوجھ اور محکمانہ دبائو سے بچا جا سکے، محکمہ کے نمائندے نے اعتراف کیا کہ ایک غیر رسمی پالیسی کے تحت سپر ٹیکس کی وصولی نقد کی صورت میں کی جارہی ہے اور ریفنڈ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں دی جا رہی تاہم اس پالیسی کی کوئی قانونی بنیاد پیش نہیں کی جا سکی، ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریفنڈ کی کارروائی میں تاخیر محکمانہ غفلت، نااہلی اور بدانتظامی کے مترادف ہے جبکہ سپر ٹیکس کی وصولی کے لیے ریفنڈ ایڈجسٹمنٹ سے انکار غیر منصفانہ، امتیازی اور من مانی اقدام ہے، محتسب نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ تمام ان لینڈ ریونیو فیلڈ فارمیشنز کو واضح احکامات جاری کیے جائیں کہ سپر ٹیکس کی وصولی سے قبل زیر التواءریفنڈ کلیمز ایڈجسٹ کیے جائیں، مزید برآں کمشنر ان لینڈ ریونیو، ریفنڈ زون، آر ٹی او فیصل آباد کو ہدایت کی گئی کہ شکایت گزار کی درخواست کو قانون کے مطابق اور مکمل سماعت کے بعد نمٹایا جائے اور 45 دن کے اندر عملدرآمد رپورٹ پیش کی جائے، ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ٹیکس دہندگان کے حقوق کے تحفظ، شفافیت کے فروغ اور محکمانہ صوابدید کے ناجائز استعمال کی روک تھام میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔




