بوٹ بیسن فائرنگ واقعہ: کسٹمز انفورسمنٹ آفیسر کو تین سال کی تنزلی، کارکردگی الاﺅنس بھی بند

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کے معطل پریونٹو آفیسر محمد توصیف اکبر کے خلاف محکمانہ کارروائی مکمل کرتے ہوئے انہیں بڑی سزا کے طور پر عہدہ اور تنخواہ کے اسکیل میں تین سال کیلئے تنزلی دینے کا حکم جاری کر دیا ہے، جبکہ ان کا پرفارمنس الاﺅنس بھی ایک سال کیلئے روک دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ افسر کے خلاف سول سرونٹس ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2020 کے تحت نااہلی اور بدانتظامی کے الزامات پر کارروائی شروع کی گئی تھی، مذکورہ آفیسرکو 18 جون 2025 کو معطل بھی کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یکم ستمبر 2025 کو چارج شیٹ جاری کی گئی اور انکوائری آفیسر نے 24 جنوری 2026 کو اپنی رپورٹ میں الزامات درست قراردیتے دیتے ہوئے سزاسنائی گئی ۔تفصیلات کے مطابق مذکورہ آفیسر نے سپاہیوں کو اسلحہ فراہم کر کے کراچی کے علاقے بوٹ بیسن میں اینٹی اسمگلنگ آپریشن کیلئے بغیر نگرانی بھیج دیا، جو کہ مقررہ ایس او پیز کے خلاف تھا۔ذرائع کے مطابق سپاہیوں نے کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلہ کیاجس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ مرکزی کردار سپاہی فیضان کے خلاف برطرفی کی کارروائی کی جارہی ہے جبکہ دیگر اہلکاروں کو معمولی سزائیں دی جا رہی ہیں۔افسر نے موقف اختیار کیا کہ وہ اپنی اہلیہ کی اچانک علالت کے باعث موقع پر موجود نہ تھے اور سپاہیوں سے مسلسل رابطے میں تھے، تاہم اتھارٹی نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ اگر ایمرجنسی تھی تو کسی دوسرے افسر کو تعینات کیا جانا چاہئے تھا یا آپریشن موخر کیا جانا چاہئے تھا۔ایف بی آر کی اتھارٹی نے انکوائری رپورٹ، شواہد، شوکاز نوٹس، ذاتی سماعت اور محکمانہ نمائندے کے دلائل کی روشنی میں فیصلہ سناتے ہوئے سزا میں اضافہ کیا اور دو سال کے بجائے تین سال کیلئے تنزلی نافذ کر دی۔مزید برآں افسر کو سرکاری ملازمت میں بحال کر دیا گیا ہے اور 18 جون 2025 سے اب تک کی معطلی کی مدت کو قابل اطلاق رخصت تصور کیا جائے گا۔ پرفارمنس الاﺅنس ایک سال کیلئے روک دیا گیا ہے اور دوبارہ حصول کیلئے افسر کو ازسرنو جانچ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افسر کو اس فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر اپیل کا حق حاصل ہوگا۔


