بلڈرز و ڈیولپرز کے لیے بڑا ریلیف ،ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ کی اجازت دے دی

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن )فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تعمیراتی شعبے سے وابستہ بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے ایک نہایت اہم اور دور رس اثرات کی حامل وضاحت جاری کرتے ہوئے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کے اطلاق سے متعلق پائے جانے والے ابہام کو ختم کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت خاص طور پر ان افراد کے لیے بڑی سہولت قرار دی جا رہی ہے جوخصوصی ٹیکس نظام کے تحت اپنی آمدن پر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ایف بی آر کے مطابق اس معاملے کی نشاندہی اس وقت ہوئی جب تعمیرات اور ڈیولپمنٹ کے شعبے سے وابستہ ٹیکس دہندگان نے یہ موقف اختیار کیا کہ جائیداد کی فروخت پرایڈوانس ٹیکس کی کٹوتی ان کے لیے اضافی مالی دباﺅ کا باعث بن رہی ہے۔ چونکہ عام حالات میں یہ ٹیکس کیپیٹل گین کے خلاف ایڈجسٹ کیا جاتا ہے، تاہم بلڈرز اور ڈیولپرز کی آمدن کوانکم فرام بزنس تصور کرتے ہوئے مجموعی وصولیوں کے ایک مقررہ فیصد پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، اس لیے کٹوتی شدہ رقم کی ایڈجسٹمنٹ ممکن نہیں رہتی، بالخصوص ایسے کیسز میں جہاں متعلقہ ٹیکس دہندہ کی کوئی دیگر قا بلِ ٹیکس آمدن موجود نہ ہو۔ایف بی آر نے معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد واضح کیا ہے کہ وہ بلڈرز اور ڈیولپرزجو اپنی مکمل ٹیکس ذمہ داری ادا کر چکے ہوں اور ان کے پاس کوئی دوسری قابلِ ٹیکس آمدن موجود نہ ہو، تووہ ایڈوانس ٹیکس کی وصولی سے استثنیٰ حاصل کرنے کے مجاز ہوں گے۔اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایسے ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کو درخواست جمع کروائیں تاکہ انہیں استثنیٰ سرٹیفکیٹ جاری کیا جا سکے۔ اس سرٹیفکیٹ کے اجرا ءکے بعد جائیداد کی فروخت کے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی جائے گی، جس سے ان کے کیش فلو پر مثبت اثر پڑے گا۔


