کنسائمنٹس کی ایگزامینشن میں درآمدکنندگان کومشکلات کا سامنا

کراچی (کسٹم بلیٹن) کراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل پر درآمدی کنسائمنٹس کی ایگزامینشن اور کلیئرنس کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کے باعث درآمدکنندگان، کلیئرنگ ایجنٹس اور تجارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ٹریڈ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ٹرمینل پر تعینات بعض کسٹمز افسران کی جانب سے متفرق درآمدی اشیاءپر مشتمل کنسائمنٹس کی جانچ پڑتال کے دوران بلاجواز اعتراضات عائد کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کلیئرنس کا عمل سست روی کا شکار ہو گیا ہے اور درآمدکنندگان کو مالی و کاروباری نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق درآمدی کنسائمنٹس کی ایگزامینشن کے دوران معمولی نوعیت کے اعتراضات کی بنیاد پر فائلوں کو طویل عرصے تک زیر التوا رکھا جاتا ہے، جبکہ متعدد کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے کنٹینرز کئی کئی روز تک ٹرمینل پر کھڑے رہتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث درآمدکنندگان کو شپنگ لائنز اور ٹرمینل آپریٹرز کو ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز کی مد میں بھاری اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے ان کی کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔تجارتی تنظیموں اور کلیئرنگ ایجنٹس کا کہنا ہے کہ اگر کسی کنسائمنٹ میں قانونی یا تکنیکی نوعیت کی کوئی خامی موجود ہو تو اس کی نشاندہی بروقت اور قواعد کے مطابق کی جانی چاہیے، تاہم بلاوجہ اعتراضات لگا کر کلیئرنس میں تاخیر نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ بندرگاہ پر کنٹینرز کے غیر ضروری قیام کے باعث پورے لاجسٹک نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ درآمدی خام مال اور صنعتی مصنوعات کی بروقت کلیئرنس نہ ہونے سے مقامی صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ٹریڈ ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد درآمدکنندگان نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو شکایات بھی ارسال کی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ فیس لیس اسیسمنٹ، رسک مینجمنٹ سسٹم اور تجارت میں آسانی کے حکومتی اقدامات کے باوجود اگر ایگزامینشن کے مرحلے پر غیر ضروری تاخیر جاری رہی تو ان اصلاحات کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔کاروباری حلقوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کسٹمز کی ذمہ داری قومی محصولات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جائز تجارت کو سہولت فراہم کرنا بھی ہے۔ ان کے مطابق غیر ضروری تاخیر سے نہ صرف درآمدکنندگان کا سرمایہ پھنس جاتا ہے بلکہ ملکی کاروباری ماحول اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔تجارتی برادری نے فیڈرل بورڈ آف ریونیواور پاکستان کسٹمز کی اعلیٰ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل پر ایگزامینشن اور کلیئرنس کے عمل کا فوری جائزہ لیا جائے، بلاجواز اعتراضات اور تاخیری حربوں کی شکایات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار افسران کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ درآمدی کنسائمنٹس کی بروقت اور شفاف کلیئرنس ممکن ہو تاکہ درآمدکنندگان کو غیر ضروری مالی نقصانات سے بچایا جا سکے اور بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں۔


