Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

ویلیوایشن رولنگ کے بعد کنسائمنٹس ازسرنو درآمدی قیمت مقررکرنا غیر قانونی قرار

کراچی(کسٹم بلیٹن) سندھ ہائیکورٹ نے درآمدی اشیاءکی ویلیوایشن رولنگ کے اجراءکے بعد کسٹمزافسران کی جانب سے کسی بھی غیرملکی ویب سائٹ سے حاصل کردہ معلومات کی بنیادپر کنسائمنٹس کی دوبارہ قیمت مقرررکرناغیرقانونی قراردے دیاہے جس پر عدالت نے محکمہ کسٹمز کی جانب سے دائر متعدد کسٹمز ریفرنس درخواستیں مسترد کرتے ہوئے درآمد کنندگان کے حق میں کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا،اس سلسلے میں محکمہ کسٹمز کاعدالت کے سامنے موقف دیا کہ کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل نے درآمد شدہ اشیاءکی اصل لین دین کی قیمت سے متعلق سرکاری ویب سائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات کو نظرانداز کیا، محکمہ کا کہنا تھا کہ ویب سائٹ پر دستیاب معلومات سے اشیا ءکی حقیقی لین دین کی قیمت سامنے آتی تھی اور اس بنیاد پر دوبارہ تشخیص کی جاسکتی تھی، تاہم عدالت نے فیصلہ دیا کہ دفعہ 25۔اے کے تحت جاری ہونے والی ویلیوایشن رولنگ کو نظرانداز کرکے دفعہ 25 کے تحت درآمدی قیمت کادوبارہ تعین نہیں کیا جاسکتا، عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 25۔اے کو ترجیحی حیثیت حاصل ہے اور اس کے تحت مقرر کی گئی قیمت کا اطلاق متعلقہ درآمدی اشیا ءپر اس وقت تک ہوگا جب تک اس میں قانون کے مطابق ترمیم نہ کی جائے، عدالت نے فیصلہ دیا کہ موجودہ مقدمے میں درآمدی مال پہلے ہی ایک قانونی ویلیوایشن رولنگ کے تحت جاری کیا جاچکا تھا، اس لیے بعد میں ویب سائٹ سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر لین دین کی قیمت قبول کرتے ہوئے دوبارہ درآمدی قیمت مقررکرنا قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتی، عدالت نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ ویب سائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر متعلقہ ویلیوایشن رولنگ میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی تھی، عدالت کے مطابق یہ بھی ثابت نہیں ہوا کہ اس وقت محکمہ کسٹمز کے پاس لین دین کی قیمت دستیاب نہیں تھی یا درآمدی مال کی اصل رسید سے متعلق کوئی ایسی نئی معلومات سامنے آئی تھی جو دوبارہ تشخیص کا جواز بنتی، عدالت نے مزید کہا کہ درآمدی سامان پہلے ہی مقررہ ویلیوایشن رولنگ کے مطابق جاری ہوچکا تھا، لہٰذا بعد میں حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر نئی تشخیص کرنا درست نہیں تھا، عدالت نے محکمہ کسٹمز کی جانب سے جاری کیے گئے وضاحتی نوٹس کے طریقہ کار پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ نوٹس میں لگائے گئے الزامات مبہم تھے، ویب سائٹ سے حاصل کی گئی مخصوص قیمتیں واضح طور پر بیان نہیں کی گئیں اور نہ ہی درآمد کنندگان کو کسی مخصوص فی یونٹ قیمت کے حوالے سے مناسب طور پر آگاہ کیا گیا، عدالت نے قرار دیا کہ عمومی اور مبہم الزامات کی بنیاد پر جاری کیا گیا وضاحتی نوٹس قانونی کارروائی کے لیے کافی بنیاد فراہم نہیں کرتا، عدالت نے مزید نشاندہی کی کہ دفعہ 25۔اے میں بعد میں کی جانے والی قانونی ترمیم کو ایسے معاملے پر لاگو نہیں کیا جاسکتا جو اس ترمیم سے پہلے کا ہو، عدالت کے مطابق موجودہ مقدمہ بھی اس قانونی ترمیم سے قبل کا تھا، سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی قانونی وجہ موجود نہیں چنانچہ محکمہ کسٹمز کی جانب سے دائر تمام متعلقہ ریفرنس درخواستیں ابتدائی مرحلے ہی پر مسترد کردی گئیں ، اس فیصلے کے نتیجے میں یہ اہم قانونی اصول سامنے آیا ہے کہ کسی درآمدی مال کے بارے میں نافذالعمل ویلیوایشن رولنگ موجود ہو اور مال اسی کے مطابق جاری کیا جاچکا ہو تو محکمہ کسٹمز محض بعد میں حاصل ہونے والی تقابلی معلومات یا کسی ویب سائٹ پر موجود قیمتوں کی بنیاد پر ازخود اس مال کی دوبارہ قیمت مقرر نہیں کرسکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button