Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

منی لانڈنگ میں ملوث 85ٹیکس دہندگان کے خلاف مقدمہ درج،اربوں روپے کا ٹیکس فراڈبے نقاب

کراچی(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس نظام کے ذریعے 9ارب سے زائد مالیت کی منی لانڈنگ اورٹیکس فراڈمیں ملوث85ٹیکس دہندگان کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغازکردیاہے ۔تفصیلات کے مطابق ایف بی آرنے غیر واضح اور غیر ظاہر شدہ دولت کو قانونی شکل دینے کی کوشش کا بڑا کیس بے نقاب کرتے ہوئے مجموعی طور پر 9 ارب 41 کروڑ روپے مالیت کے غیر واضح اثاثوں سے متعلق ریکارڈ میں مبینہ غیر قانونی ردوبدل کا سراغ لگا لیا ہے۔ ایف بی آر نے ایک ٹیکس دہندہ کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ دیگر ملوث افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔ایف بی آر کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرا ل) کے تعاون سے ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کے تفصیلی جانچ پڑتال کے دوران ایسے 85 ٹیکس دہندگان کی نشاندہی ہوئی جنہوں نے مارچ 2025سے جون2026 کے دوران مالی سال 2014 سے2019 کی اپنی پرانی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ترامیم کیں۔ایف بی آر کے مطابق مذکورہ ٹیکس دہندگان نے اپنی سابقہ ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ایسی دولت اور اثاثے شامل کیے جو اس سے قبل متعلقہ ریکارڈ میں ظاہر نہیں کیے گئے تھے جس میں نقد رقم، سونا، پرائز بانڈز، جائیدادیں اور کاروباری سرمایہ شامل ہیں۔ٹیکس حکام کے ڈیٹا جانچ پڑتال کے دوران انکشاف ہوا کہ ان ترامیم کے ذریعے مجموعی طور پر9ارب41کرورڑروپے کے اثاثے اور مالی وسائل سابقہ ویلتھ اسٹیٹمنٹس کا حصہ بنائے گئے۔ ایف بی آر نے ان ترامیم کو قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ ٹیکس دہندگان نے مقررہ قانونی مدت گزر جانے کے بعد اپنے پرانے گوشواروں اور ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں تبدیلیاں کیں۔ایف بی آر کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس2001 کی شق۶۱۱(۳) کی وضاحت کے تحت اصل ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کرانے کی مقررہ تاریخ سے پانچ سال گزرنے کے بعد اس میں ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ایف بی آر کے ڈیٹا تجزیے میں سامنے آنے والی تمام متعلقہ ترامیم اس قانونی مدت کے گزر جانے کے کافی عرصے بعد کی گئیں۔ حکام کے مطابق اس طریقہ کار کے ذریعے بعض ٹیکس دہندگان نے اپنی پرانی مالی حیثیت میں ایسے اثاثے شامل کرنے کی کوشش کی جن کے ذرائع پہلے ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔ایف بی آر کی کارروائی میں لاہور ریجن سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیکس دہندہ کا کیس بھی سامنے آیا ہے، جس کے خلاف ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) لاہور نے فوجداری مقدمہ درج کیا ہے۔ایف بی آر کے مطابق مذکورہ ٹیکس دہندہ نے مئی 2026 میں ٹیکس سال 2015 کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ترمیم کی اور اس میں تقریباً 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے مبینہ فرضی فنڈز شامل کیے۔بعد ازاں یہ رقم مختلف سالوں کی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں آگے منتقل کی گئی اور اسے ٹیکس سال 2025 تک ظاہر کیا جاتا رہا۔ ایف بی آر کے مطابق انہی فنڈز کو بعد میں مئی اور جون 2026 کے دوران خریدی گئی سات جائیدادوں کے لیے مالی جواز کے طور پر استعمال کیا گیاجن کی مجموعی مالیت6 کروڑ 44 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ایف بی آر کے مطابق جب متعلقہ ٹیکس دہندہ سے ان فنڈز کے اصل ذرائع کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تو وہ ان کی تسلی بخش وضاحت فراہم نہ کر سکا۔حکام کے مطابق اس ایک کیس میں ہیٹیکس چوری کی رقم 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے تاہم معاملے کی نوعیت اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر متعلقہ ٹیکس دہندہ کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت فوجداری کارروائی شروع کی گئی ہے۔ایف بی آر نے بتایا ہے کہ معاملہ صرف ایک ٹیکس دہندہ تک محدود نہیں ہے۔انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) کے علاقائی ڈائریکٹوریٹس نے ملک بھر میں ایسے معاملات کی بنیاد پر 48 فوجداری انکوائریاں شروع کر دی ہیں۔ایف بی آر کے مطابق دیگر شناخت شدہ کیسز میں بھی شواہد اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال جاری ہے جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔ٹیکس حکام نے واضح کیا ہے کہ مبینہ جعلسازی یا غیر قانونی طریقے سے دولت کو ظاہر کرنے کے عمل میں اگر کسی دوسرے شخص نے معاونت کی تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ایف بی آر کے مطابق درج کیے گئے منی لانڈرنگ کیس میں متعلقہ ٹیکس دہندہ کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر معاونت کرنے والے افراد کو بھی تحقیقات کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے میں ملوث ہر شخص کے خلاف دستیاب شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button