آئی آرایس ، فیس لیس آڈٹ اور اسسمنٹ سسٹم کا باقاعدہ آغاز

اسلام آباد (کسٹم بلیٹن)فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ملک کے ٹیکس نظام میں شفافیت لانے، انسانی مداخلیت کو ختم کرنے اور ٹیکس گزاروں کو ہراسانی سے بچانے اقدام اٹھاتے ہوئے فیس لیس آڈٹ اور اسسمنٹ کا باقاعدہ آغازکردیاہے اس سلسلے میں ایف ی آرکی جانب سے ایس آراو1665جار ی کردیاہے۔ایس آراوکے تحت اب ملک بھر میں انکم ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے بیشتر امور فیس لیس طریقہ کار کے تحت انجام دیے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق فیس لیس نظام کو چلانے کے لیے ایک نیانیشنل فیس لیس سینٹر قائم کیا گیا ہے جس کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوں گے۔ اس سینٹر میں چیف کمشنرز، کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنرز سمیت تمام ضروری عملہ تعینات کیا جائے گا۔ اس سینٹر کے اہم ترین چار شعبے میں آڈٹ ونگ،اسسمنٹ ونگ، کوالٹی کنٹرول ونگ، فیلڈ آپریشنز ونگ شامل ہیں اورمقدمات کی تقسیم خودکارطریقے سے کی جائے گی۔ ایک ہی کیس کے آڈٹ، اسسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے افعال مختلف افسران یا یونٹس کو دیے جائیں گے جبکہ کوئی بھی افسر ایک ہی کیس کے لیے ایک ہی ٹیکس سال میں ایک سے زائد افعال انجام نہیں دے سکے گا۔ مقدمات کس افسر یا یونٹ کو منتقل کئے جانے کی مکمل رازداری ہوگی اور اس کی معلومات ایف بی آر کے الیکٹرانک سسٹم میں تو محفوظ رہیں گی لیکن ٹیکس گزار یا عام افراد پر اسے افشا نہیں کیا جائے گا۔اس سلسلے میں تمام نوٹسز، آرڈرز، اور آڈٹ رپورٹس کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے تیار ہوں گی اور ان پر مخصوص نمبردرج ہوگا۔جبکہ اگرآڈٹ یا اسسمنٹ کے دوران کاروبار، اثاثہ جات یا اخراجات کی فیزکل تصدیق ضروری سمجھی جائے تو یونٹ آفیسر وجوہات قلمبند کر کے چیف کمشنر کو درخواست دے گا۔ چیف کمشنر کی منظوری کے بعد فیلڈ آپریشنز ونگ کا افسر فزیکل ویریفکیشن کر کے رپورٹ سسٹم پر اپ لوڈ کرے گا۔آڈٹ رپورٹس، اسسمنٹ آرڈرز اور دیگر قانونی نوٹسز کے قانونی اور واقعیاتی معیار کو یقینی بنانے کے لیے کوالٹی کنٹرول ونگ ان کا معائنہ کرے گا اور سفارشات یا مشاہدات فراہم کرے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق مخصوص حالات میں (جیسے کہ فزیکل ریکارڈ کا حجم بہت زیادہ ہو، بار بار فزیکل ویریفکیشن کی ضرورت ہو، یا سرچ اور سیزر کی کارروائی درکار ہو، چیف کمشنر کی سفارش پر یا ایف بی آر خود اپنے اختیار سے کیس کو فیس لیس سینٹر سے روایتی کمشنر کے پاس منتقل کر سکتا ہے۔ا س سے ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہ راست رابطے کا خاتمہ ہوگا جس سے کرپشن اور رشوت ستانی کے امکانات کم ہوں گے،جبکہ ٹیکس ہراسانی کے خدشات دور ہوں گے اور کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، شفاف، تیز رفتار اور جدید ڈیجیٹل حل سے ٹیکس کی وصولی اور عدالتی تنازعات میں کمی آئے گی۔


