منشیات اور ممنوعہ کیمیکل کی بھاری مقدارپکڑی گئی،بین الااقوامی اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

کراچی (کسٹم بلیٹن)اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف )کے پورٹ کنٹرول یونٹ نے کراچی کے ساﺅتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل (ایس اے پی ٹی) پر ایک بڑی اور اہم کارروائی کرتے ہوئے ملائیشیاسے درآمدکئے جانے والے کنسائمنٹ سے 205 کلوگرام میتھافیٹامائن (آئس) اور 13980کلوگرام ریڈ فاسفورس(کیمیائی مادہ )برآمد کر لی،کیمیائی مادہ تخریب کاری ودہشت گردی میں استعمال کیاجاتاہے اورمذکورہ کیمیائی مادہ بلوچستان کے راستہ افغانستان منتقل کیاجاناتھا ۔ اس کارروائی کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، ملائیشیا، پاکستان اور افغانستان کے درمیان پھیلے ہوئے ایک پیچیدہ ٹرانزٹ اسمگلنگ نیٹ ورک کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، شک کی بنیاد پر 3 نومبر کو کنٹینر کی جانچ پڑتال شروی کی تو مذکورہ کنٹینر بھارتی بندرگاہ منڈراسے روانہ ہوا تھا جو دبئی اور ملائیشیا کی پورٹ کلانگ سے ہوتا ہوا کراچی کے ساﺅتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل پہنچا۔دستاویزات کے مطابق اس کارگو کا حتمی مقصد لاہور ظاہر کیا گیا تھا، تاہم کیمیکلز اور مشکوک شپنگ ریکارڈز کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ اس ممنوعہ سامان کو بلوچستان کے راستے افغانستان منتقل کیا جانا تھا۔ لیبارٹری اور کیمیکل ایگزامینر کی تصدیق کے بعد برآمد شدہ آئس اور ریڈ فاسفورس کو تحویل میں لے لیا گیا۔تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ کنٹینر کا برآمد کنندہ جوائن گلوبل ٹریڈنگ ظاہر کیا گیا تھا، جو کلانگ، سلنگور (ملائیشیا) کے سازین بزنس پارک میں رجسٹرڈ ہے۔ دوسری جانب سامان وصول کرنے والا قصورکو دکھایا گیا تھا جبکہ گرفتارکئے جانے والے ملزمان حاجی عبد الواسع اورعبد الواحد نے انکشاف کیاہے ، دونوں ملزمان عالمی سطح پر آئس کی تیاری اور اسمگلنگ کے کاروبار سے منسلک ہیںگرفتار دونوں ملزمان افغانستان کے علاقوں برابچہ اوربکوا میں منشیات کی فیکٹریاں چلاتے ہیں، جہاں سے آئس تیار کر کے پاکستان اور ایران کے راستے دنیا بھر کی منشیات مارکیٹوں میں سپلائی کی جاتی ہے۔یہ کارروائی تجارتی ٹرانزٹ کی آڑ میں ہونے والی اسمگلنگ کا ایک بڑا ثبوت ہے۔ حالیہ سکینڈلز اور اسمگلنگ کے واقعات نے ایف بی آر کے سینئر حکام کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ تاہم، کراچی پورٹ پر ہونے والی یہ حالیہ برآمدگی حالیہ مہینوں میں ٹرانزٹ کارگو کے خلاف انسداد منشیات کی سب سے بڑی کامیابیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔



