سیلز ٹیکس ڈیجیٹل انوائس کا قانون مزید بہتربنادیاگیا

کراچی (کسٹم بلیٹن )فیڈرل بورڈ آف ریونیونے ڈیجیٹل انوائس کے قانون کو مزید بہتربنانے کے لئے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر25برائے2026جاری کردیاہے ،جاری کردہ سیلز ٹیکس جنرل آرڈرکے مطابق ایک ہی سیلز ٹیکس رجسٹریشن رکھنے والی فیکٹری یا فردکے لئے اپنے ویئر ہاﺅس میں سامان منتقل کرنے کے حوالے سے اہم وضاحت اور طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق اگر سامان فیکٹری سے اسی سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے حامل اپنے ہی ویئر ہاﺅس بھیجا جائے تو یہ عمل سپلائی کے زمرے میں نہیں آتا، لہٰذا اس پر ڈیجیٹل یا ای انوائس کا اخراج لازمی نہیں ہے تاہم دوران نقل و حمل اور آڈٹ کے وقت کسی غلط فہمی یا غیر قانونیت سے بچنے کے لیے نان فیسی کل “اسٹاک ٹرانسفر نوٹ” ساتھ ہونا ضروری ہے۔ایف بی آر کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن ۲(۳۳)کے تحت سپلائی کا مطلب ملکیت کی تبدیلی ہوتا ہے، جب کہ ایک ہی سیلز ٹیکس رجسٹریشن رکھنے والی فیکٹری اور ویئر ہاﺅس کے درمیان سامان کی منتقلی پر ملکیت تبدیل نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ معاملہ سیکشن 3کے تحت سیلز ٹیکس کی حد سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکشن 23کے تحت سیلز ٹیکس انوائس جاری کرنا ضروری نہیں جبکہ موصول کرنے والا ویئر ہاﺅس الگ سیلز ٹیکس نمبر رکھتا ہو تو یہ منتقل شدہ سامان قابل ٹیکس سپلائی شمار ہوگا اس پر ڈیجیٹل انوائس کا اجراءاور آﺅٹ پٹ ٹیکس کی ادائیگی قانونی طور پر لازم ہو گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق سامان بھیجنے سے پہلے سلسلہ وار نمبر والا اسٹاک ٹرانسفر نوٹ تیار کیا جائے گااور سامان کی مالیت صرف انوینٹری کے نظام کی حد تک لاگت کی بنیاد پر درج کی جائے گی اور اسے ٹیکس انوائس کی طرح بالکل تیار نہیں کیا جائے گاجبکہ سامان کی نقل و حمل کے دوران یہ نوٹ ہر وقت ساتھ رہے گا اور چیک پوسٹ یا تصدیق کے وقت پیش کیا جائے گا،اس کے علاوہ سامان کی وصولی پر ویئر ہاﺅس انچارج نوٹ کی توثیق کرے گا اور اسٹاک رجسٹر اپ ڈیٹ کرے گا، جبکہ بھیجنے والا یونٹ رول22 کے تحت فیکٹری رجسٹر اپ ڈیٹ کرے گا، اسٹاک ٹرانسفر نوٹ کی کاپیاں دونوں اطراف محفوظ رکھی جائیں گی اور ماہانہ بنیادوں پر پیداوار اور انوینٹری کا ریکارڈ ملا کر چھ سال تک محفوظ رکھا جائے گا۔ٹیکس دہندگان کو بلاوجہ پریشان کرنے سے روکنے کے لیے ایف بی آر نے میدانی عملے کو ہدایت کی ہے کہ ڈرائیور کا شناختی کارڈ یا ای انوائس و اسٹاک ٹرانسفر نوٹ کے علاوہ کوئی اضافی دستاویز طلب نہ کی جائے۔ دوران سفر سامان کی فزیکل چیکنگ، معائنہ یا گودام سے اتارنے پر پابندی ہوگی، جبکہ کسی گاڑی کو غیر مجاز مقامات پر روکنا یا موڑنا سخت منع ہے۔ ڈیجیٹل انوائس نہ ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق الگ سے کارروائی ہوگی لیکن گاڑی کو راستے میں روکا نہیں جائے گا۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی ہراسانی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ان ہدایات کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائے ۔



