گدھے کی کھالوں کی اسمگلنگ کا الزام ،ملزمان باعزت بری

کراچی (کسٹم بلیٹن )کراچی کی کسٹمز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی اسمگلنگ کی خصوصی عدالت نے نمک اور دستکاری کی نمائش میں کروڑوں روپے مالیت کی گدھے کی کھالیں ہانگ کانگ اسمگل کرنے کے مقدمے میں نامزد دو ملزمان محمد ندیم اور کرامت خان کو عدم ثبوت اور شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کر دیا ہے۔اس سلسلے میں ایڈوکیٹ انیل ضیاءنے عدالت کے سامنے ٹھو س دلائل پیش کئے جس پر خصوصی جج ڈاکٹر شبانہ وحید نے فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ پراسیکیوشن ملزمان کے خلاف گدھے کی کھالوں کی غیر قانونی برآمدگی، جعلسازی یا گھناﺅنے جرم میں براہ راست ملوث ہونے کے الزامات کو بلا شک و شبہ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، صرف شک و شبہ یا محض الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ مقدمے کی تفصیلات کے مطابق اگست 2022 میں کراچی کے ساﺅتھ ایشیا ٹرمینل سے نمک کے9.5میٹرک ٹن کی جعلی ڈیکلریشن کے ذریعے ایک کنٹینر ہانگ کانگ روانہ کیا گیا تھا جسے ہانگ کانگ کسٹمز نے تلاشی کے دوران روک کر اس سے 9 ہزار 650 کلوگرام وزن پر مشتمل گدھے کی 13 بوریاں برآمد کی تھیں جس کے بعد کسٹمز حکام نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کی تھیں۔ دوران سماعت عدالتی کارروائی کے دوران گواہوں اور تفتیشی افسر کے بیانات سے یہ بات سامنے آئی کہ گڈز ڈیکلریشن یا بل آف لیڈنگ پر دونوں ملزمان کا نام بطور ایکسپورٹر یا کلیئرنگ ایجنٹ درج نہیں تھا اور نہ ہی پراسیکیوشن نے کنٹینر میں سامان کی لوڈنگ، بینک ٹرانزیکشنز یا جعلسازی میں ملزمان کے براہ راست تعلق کا کوئی قانونی ثبوت پیش کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ گڈز ڈیکلریشن میں تحریف یا غلط بیانی کا وجود اپنی جگہ لیکن قانونی تقاضوں کے مطابق ملزمان کا مجرمانہ ارادہ اور جرم میں شرکت ثابت ہونا ضروری ہے، لہٰذا دونوں ملزمان کو تحت شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام الزامات سے بری کیا جاتا ہے اور ان کے ضمانتی مچلکے منسوخ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔



