کسٹمز اپریزمنٹ پشاور،ازاخیل ڈرائی پورٹ سے جعلی پے آرڈرز پرمتعدد کنسائمنٹس کی کلیئرنس ،کسٹمز اہلکار اور بینک انتظامیہ بھی نامزد

پشاور (کسٹم بلیٹن)کلکٹریٹ آف کسٹمزاپریزمنٹ پشاورنے دوسال کے دوران ازاخیل ڈرائی پورٹ پر جعلی اورمن گھڑت پے آرڈرزکے ذریعے کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس کرکے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کانقصان پہنچانے پرملزمان کے خلاف تین الگ الگ مقدمات درج کرلئے گئے ہیں اس فراڈ میں نجی کمپنیوںکے مالکان ،ان کے نائندوں ،کسٹمزکے عملے اوربینک حکام کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔تفصیلات کے مطابق مقدمات میں درآمدکنندگان میسرز عجوہ انٹرپرائزز کے مالک عمر حیات ،میسرز بیسٹ کارپوریشن کے مالک اویس خان،میسرز یوسف زئی فوڈز نے کنسائمنٹ کی کلیئرنس کے لئے جعلی ہے آرڈرز جمع کرانے والے عبد الوکیل،کسٹمز کے ایل ڈی سی نبیل ناصر اور آپریشن منیجر فیصل بینک لمیٹڈ شاہ خص خیبر ایجنسی برانچ کو نامزد کیاگیاہے ، مقدمے میں نامزدملزمان میں میسرزفوڈزیوسف زئی نے 7کروڑ63لاکھ مالیت کے18پے آرڈرزکے ذریعے گرین ٹی اوربلیک ٹی کے 13کنسائمنٹس کی کلیئرنس کے دوران فاٹا پاٹا کی صنعتی مراعات کے تحت سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کے لیے جعلی طریقے اپنایاگیا جس میں متعلقہ بینک سے تصدیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ پے آرڈرز جعلی اور من گھڑت ہیںجبکہ دوسرے مقدمہ میں میسرزبیسٹ کارپوریشن نے ایل سی ڈی ٹی وی پارٹس کی کلیئرنس کسٹمزاہلکاروں (ایل ڈی سی)ناصراورسیکورٹی آفیسراورفیصل بینک کے منیجر کی ملی بھگت سے کی گئی جس میں جعلی پے آرڈرجمع کروائے گئے۔کسٹمزکی جانب سے درج مقدمہ میں کہاگیاہے کہ ملزمان نے اصلی پے آرڈر کو جعلی پے آرڈر سے بدل دیا گیا اور کسٹمز کلکٹر کے جعلی اسٹیمپ اور دستخط کا استعمال کیا گیا۔ویبوک سسٹم میں سیکیورٹی آفیسر کے طور پر تعینات کسٹمز اہلکار اور بینک انتظامیہ کی ملی بھگت سے یہ فراڈ کیا گیاجس سے قومی خزانے کو دوکروڑ11لاکھ روپے کا نقصان پہنچایاگیاجبکہ تیسرے مقدمہ میں نامزد میسرز عجوہ انٹرپرائزز کے مالک عمرحیات نے کسٹمزاسٹاف اوردیگرسہولت کاروں کی مددسے سیلزٹیکس کی مدمیں75لاکھ 50ہزارمالیت کافیصل بینک کا جعلی پے آرڈرجمع کروایاگیا۔



