ضبط شدہ سامان کی نیلامی کا نیاطریقہ کارجاری

کراچی (کسٹم بلیٹن )فیڈرل بورڈ آف ریوینو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں اہم ترامیم کرتے ہوئے ضبط اور ضبط شدہ سامان کی آن لائن فروخت کے لیے الیکٹرانک آکشن (ای-آکشن) متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت نیلامی کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایس آراو 1889 جاری کر دیا گیا ہے جس کا مقصد ضبط شدہ سامان کے نمٹانے کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔اس الیکٹرانک آکشن کے نفاذ چند قوائدوضوابط طے کئے گئے ہیں جن میں نیلامی کے قابل سامان، مجاز افسر، بولی لگانے والا اور کسٹوڈین کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ نئے قوانین کے تحت ای-آکشن میں حصہ لینے کے لیے درست قومی شناختی کارڈ یا نائیکوپ (این آئی سی اوپی ) کے حامل افراد کو ای-آکشن ماڈیول پر آن لائن رجسٹریشن کرانا ہوگی اور کم از کم 25ہزار روپے کی ناقابل واپسی فیس جمع کرانی ہوگی۔ کامیاب رجسٹریشن کے بعد سسٹم کی جانب سے منفرد شناختی نمبر جاری کیا جائے گا۔ سامان کے کسٹوڈین کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ ضبط شدہ اور نیلامی کے قابل تمام سامان کا مکمل ریکارڈ، تصاویر اور تفصیلات ای-آکشن ماڈیول میں اپ ڈیٹ کرے اور خریداروں کے معائنے کے لیے سہولیات فراہم کرے۔ نیلامی سے قبل مجاز افسر ویلیوایشن کمیٹی کی سفارش پر ہر لاٹ کی کم از کم قیمت خرید (ریزرف پرائس) کا تعین کرے گا جس کے لیے مارکیٹ ریٹ، ریٹرنز میں ظاہر کردہ قیمتوں اور تخمینہ کمیٹی کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔ آن لائن بولی کا یہ عمل پہلی بولی موصول ہونے کے بعد 72 گھنٹوں تک جاری رہے گا اور سسٹم خودکار طریقے سے سب سے زیادہ بولی ظاہر کرتا رہے گا۔ بولی کا وقت ختم ہونے کے بعد مجاز افسر 72 گھنٹوں کے اندر سب سے زیادہ بولی کو منظور یا مسترد کرنے کا مجاز ہوگا۔ کامیاب بولی دہندہ کو نیلامی کی منظوری کے بعد سات دن کے اندر تمام واجبات، ٹیکسز اور فیس سمیت سو فیصد رقم جمع کرانا ہوگی۔ رقم کی مکمل ادائیگی اور تصدیق کے بعد ہی مجاز افسر سامان کی ڈیلیوری کے لیے الیکٹرانک ریلیز آرڈر جاری کرے گا۔ اگر کوئی کامیاب بولی دہندہ مقررہ وقت میں ادائیگی کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کی بولی کینسل کر دی جائے گی، سیکیورٹی ضبط کر لی جائے گی اور اسے آئندہ نیلامیوں میں حصہ لینے سے چھ ماہ تک معطل کیا جا سکتا ہے۔ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سب سے پہلے قانونی اخراجات اور پھر سرکاری واجبات اور ٹیکسز کی مد میں استعمال کی جائے گی جبکہ بقیہ رقم قانون کے مطابق اصل مالک کے حوالے کی جائے گی۔



