سابق "ان لینڈریونیو " آفیسرکی ایف بی آر اصلاحات، اور افسران کی معطلی کے معاملے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ

کراچی (کسٹم بلیٹن)سابق ایف بی آرآفیسر ایڈووکیٹ آصف علی ابڑو نے آئین پاکستان 1973کے مختلف دفعات کے تحت وزیراعظم پاکستان کو ایک تفصیلی خط کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات، عالمی بینک کے سود پر مبنی اربوں روپے کے فنڈز کے استعمال، ٹیکس ہدف میں ناکامی اور افسران کو مبینہ طور پر ناانصافی کا نشانہ بنائے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے، خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ستمبر 2024 میں متعارف کئے گئے ٹرانسفارمیشن پلان کے بعد عالمی بینک کی جانب سے 470 ملین ڈالر کی مجموعی فنانسنگ فراہم کیے جانے کے باوجود تکنیکی و اداری اصلاحات جیسے کہ تاجردوست اسکیم اور فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں جبکہ آئی ایم ایف کی نومبر 2025 کی کنٹری رپورٹ میں بھی مالی سال2024-25کے دوران ریونیو جمع کرنے میںایک کھرب22ارب40کروڑروپے کے خسارے کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں سے 380 ارب روپے کا خسارہ انتظامی اور نافذ العمل چیلنجز کی وجہ سے ہوا، خط میں یہ بات بھی سامنے لائی گئی ہے کہ سالانہ15کھرت26ارب30کروڑروپے کے مشکل ہدف کے مقابلے میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں صرف 7 فیصد نمو دیکھی گئی ہے اور 19 ملین این ٹی این ہولڈرز کے باوجود صرف 7 ملین انکم ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے ہیں، وکیل نے نشاندہی کی کہ ملک میں انکم ٹیکس کی بلند ترین شرح (35 سے 45 فیصد) کی وجہ سے ٹیکس گزاروں میں عدم اطمینان پھیلا ہوا ہے جسے کم کر کے 20 فیصد سے نیچے لانے اور نیب آرڈیننس میں 50 کروڑ روپے کی حد کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو، اس کے علاوہ خط میں ایف بی آر کے انکم ٹیکس اور کسٹمز افسران میں ملازمت کے تحفظ، سینئرٹی اور کیریئر کی عدم یقینی کے حوالے سے پھیلے خوف پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اکتوبر2026میں9 ایماندار اور قابل افسران جن میں گریڈ20کے نائب علی پٹھان ، گریڈ19کے علی صلاح حیات کلیار، غلام مصطفیٰ،، رفعت عزیز ،گریڈ18کے سہیل انجم، سحرش جاوید حسین مرزا ، اقصیٰ ،گریڈ17کے محمد ضرار ارشاداور، فاطمہ طارق شامل ہیں کو صرف اپنے جائز خدشات کے اظہار پر معطل کر کے دیگر صوبوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، آصف ابڑو نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف بی آر کی موجودہ قیادت سے ہٹ کر افسران کے ساتھ ایک “ان کیمرہ سیشن” منعقد کیا جائے، معطل افسران کو فوری بحال کیا جائے اور ایف بی آر اصلاحات کی کارکردگی اور غیر ملکی مشاورت کا ایک آزادانہ، شفاف اور حقیقت پر مبنی جائزہ لیا جائے تاکہ ملکی ریونیو اور افسران کے مورال کا تحفظ ممکن ہو سکے۔



