Breaking NewsEham Khabar

بانڈڈ ویئرہاﺅسز ‘ چھالیہ کی کلیئرنس روک دی گئی

کراچی (کسٹم بلیٹن )کسٹمز حکام نے بانڈڈ ویئرہائوسز میں موجود چھالیہ کی تمام کنسائنمنٹس کی ایکس بانڈنگ اور ڈیلیوری فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔کسٹمزحکام کے مطابق بانڈڈویئرہاﺅسزمیں چھالیہ کے کنسائمنٹس کی تمام درآمدی دستاویزات کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جارہی ہے اس کے بعد بانڈڈویئرہاﺅسزمیں رکھے ہوئے چھالیہ کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس کا عمل دوبارہ شروع ہوگا۔ اس سلسلے میں چھالیہ کے درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ کنسائمنٹس کی کلیئرنس سے قبل تمام درآمدی دستاویزات محکمہ کسٹمزکو بھیج دیئے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود محکمہ کسٹمزکی جانب سے بانڈڈویئرہاﺅسزمیں رکھے ہوئے چھالیہ کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس کو روک دیاگیاہے،ذرائع نے بتایاکہ اس وقت بانڈڈویئرہاﺅسزمیں لاکھوں ٹن چھالیہ رکھی ہوئی ہے کسٹمزکے اس عمل سے مصنوعی قلت پیداہوجائے گی جبکہ دوسری جانب مضرصحت چھالیہ کی اسمگلنگ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ چھالیہ کے حقیقی درآمدکنندگان کاکہناہے کہ محکمہ کسٹمزنے بغیرکسی جوازکے بانڈڈویئرہاﺅسزمیں رکھے ہوئے کنسائمنٹس کی کلیئرنس روک دی ہے ۔ذرائع کے مطابق چھالیہ اس وقت مختلف بانڈڈ ویئرہاﺅسز میں رکھی گئی ہیں اور ان کے نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے دوبارہ بھجوائے جانے کا بھی امکان ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لیبارٹری رپورٹس کو اپنے حق میں کروانے کے لیے 50 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ رشوت دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مضر صحت چھالیہ کو کلیئر کر کے مارکیٹ میں لایا جاتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں چھالیہ کی ماہانہ کھپت تقریبا 600 کنٹینرز ہے، جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ماہانہ درآمد صرف 50 کنٹینرز کے قریب ہے۔ کھپت اور درآمد کے اس واضح فرق نے چھالیہ کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کے شبہات کو مزید تقویت دی ہے، جس سے قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک منظم اسمگلنگ مافیا طویل عرصے سے سرگرم ہے جو مبینہ طور پر بعض کسٹمز اہلکاروں کی ملی بھگت سے چھالیہ کی اسمگلنگ، کلیئرنس اور ترسیل کو کنٹرول کر رہا ہے۔ ادارہ اسمگلنگ میں ملوث عناصرپر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کررہاہے،کسٹم بلیٹن نیوز تحقیقات مکمل ہوتے ہی اسمگلنگ میںملوث افرادکے نام بھی شائع کرے گا۔کسٹمز حکام نے بانڈڈ ویئرہاﺅس مالکان کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں بانڈڈ ویئرہاﺅس لائسنس کی معطلی یا منسوخی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لیبارٹری رپورٹس کی روشنی میں ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔حکام نے واضح کیا ہے کہ مضر صحت چھالیہ، رشوت اور اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جارہی ہے اور عوامی صحت سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button