ایف بی آر نے کوئلے کی درآمد پر ایک فیصد کم از کم ویلیو ایڈیشن ٹیکس کے اطلاق کا طریقہ کار جاری کر دیا

کراچی (کسٹم بلیٹن) وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ان لینڈ ریونیو (پالیسی ونگ) نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 9 برائے 2026* جاری کرتے ہوئے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990* کے بارہویں شیڈول کی شق (6) کے تحت درآمدی کوئلے پرکم از کم ایک فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس کے نفاذ کے لیے طریقہ کار اور شرائط کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔مذکورہ جنرل آرڈر فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔جنرل آرڈر کے مطابق یہ سہولت صرف ایسے کوئلے کی درآمد پر دستیاب ہوگی جو پاکستان کسٹمز ٹیرف کے باب 27 کے تحت آتا ہو اور جسے خصوصی طور پرکوئلے سے چلنے والے آزاد بجلی گھروںکو براہ راست فراہم کرنے کے لیے درآمد کیا گیا ہو۔ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ ایک فیصد کم از کم ویلیو ایڈیشن ٹیکس کی رعایت حاصل کرنے کے لیے درآمد کنندہ کاسیلز ٹیکس ایکٹ 1990** کے تحت رجسٹرڈ ہونا لازمی ہوگا۔اس کے علاوہ درآمد کنندہ کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ درآمد کیا گیا کوئلہ صرف نیپرا سے لائسنس یافتہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کو براہ راست فراہم کیا جائے گا۔جنرل آرڈر کے مطابق درآمد کے وقت کسٹمز کلکٹر کو خریداری کا آرڈر، سپلائی معاہدہ، کنٹریکٹ یا دیگر دستاویزی ثبوت فراہم کرنا ہوگا جن سے یہ ثابت ہو کہ درآمد شدہ کوئلہ صرف متعلقہ بجلی گھر کو براہ راست فراہم کیا جانا ہے۔ درآمد کنندہ کو درآمد اور بعد ازاں سپلائی سے متعلق تمام ریکارڈ محفوظ رکھنا ہوگا اور طلب کیے جانے پر انہیں کسٹمز یا ان لینڈ ریونیو حکام کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ایف بی آر نے مزید ہدایت کی ہے کہ درآمد کنندہ کو سیلز ٹیکس قوانین کے تحت آڈٹ اور تصدیقی کارروائیوں میں مکمل تعاون کرنا ہوگا۔ کسٹمز حکام فراہم کردہ دستاویزات کی بنیاد پر ایک فیصد ٹیکس کے مطابق اسیسمنٹ کر سکیں گے، تاہم بعد از کلیئرنس آڈٹ یا ان لینڈ ریونیو حکام کے ساتھ مل کر شرائط کی تکمیل کی تصدیق بھی کی جا سکے گی۔جنرل آرڈر میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بعد ازاں یہ ثابت ہو جائے کہ درآمد شدہ کوئلہ کسی ایسے شخص یا ادارے کو فروخت یا فراہم کیا گیا جو کوئلے سے چلنے والا آزاد بجلی گھر نہیں، یا کوئلہ براہ راست فراہم کرنے کے بجائے کسی اور مقصد کے لیے استعمال یا منتقل کیا گیا، یا مقررہ شرائط میں سے کسی کی خلاف ورزی ہوئی، تو درآمد کنندہ سے کم از کم ویلیو ایڈیشن ٹیکس کا بقایا فرق وصول کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت اضافی سرچارج اور جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔جنرل آرڈر میںکوئلے سے چلنے والا آزاد بجلی گھر کی تعریف بھی بیان کی گئی ہے، جس کے مطابق اس سے مراد ایسا بجلی پیدا کرنے والا ادارہ ہے جو نیپرا کی جانب سے جاری کردہ جنریشن لائسنس کے تحت کوئلے سے بجلی پیدا کرتا ہو۔ اسی طرح براہ راست سپلائی سے مراد درآمد کنندہ کی جانب سے درآمدی کوئلہ بغیر کسی درمیانی فروخت، منتقلی یا تبدیلی کے براہ راست ایسے بجلی گھر کو فراہم کرنا ہے۔ایف بی آر کے مطابق یہ جنرل آرڈر 7 جولائی 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل ہے اور اس کا مقصد کوئلے کی درآمد پر ٹیکس رعایت کو صرف حقیقی مستحقین تک محدود رکھتے ہوئے اس کے غلط استعمال کی روک تھام اور ٹیکس نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔



