آف ڈاک ٹرمینل کے طور پر آپریشنز کا طریقہ کار جاری، کراچی میں درآمدی و برآمدی کنٹینرز کی کلیئرنس کے لیے جامع ضوابط نافذ

کراچی (کسٹم بلیٹن )فیڈرل بورڈ آف ریونیونے کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن 9 اور سیکشن 10 کے تحت جاری اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسٹینڈنگ آرڈر نمبر 61 جاری کر دیا ہے، جس کے تحت میسرز انٹرنیشنل کارگو ٹرمینلز پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو آف ڈاک ٹرمینل کے طور پر آپریشنز کے لیے باقاعدہ طریقہ کار نافذ کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ ٹرمینل ٹرانس لیاری، ہاکس بے کراچی میں قائم ہے جیسے اسے ایس آر او 914 اور ایس آر او 1083کے تحت کسٹمز اسٹیشن کا درجہ دیا گیا ہے۔ٹرمینل پر کراچی پورٹ اور پورٹ محمد بن قاسم کے تمام درآمدی و برآمدی کنٹینرز کی کلیئرنس کی جائے گی۔اسٹینڈنگ آرڈر کے مطابق میسرز آئی سی ٹی آف ڈاک ٹرمینل اپنی تمام سرگرمیاں کسٹمز کمپیوٹرائزڈ سسٹم (سی سی ایس) اور وی بوک کے تحت انجام دے گا، جبکہ آپریشن شروع کرنے سے قبل کمپنی کے لیے سیکشن 155 کے تحت یوزر آئی ڈی حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کمپنی کو کسٹمز رولز 2001سے متعلقہ قوانین پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا۔ایف بی آر نے کمپنی کو 50 ملین روپے یا مساوی مالیت کی بینک گارنٹی برقرار رکھنے کا پابند بنایا ہے، جو قواعد کی خلاف ورزی یا ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں ضبط کی جا سکے گی۔ ٹرمینل میں جدید فائر فائٹنگ سسٹم، اینٹی تھیفٹ اور اینٹی برگلری آلات، سی سی ٹی وی کیمرے، واچ ٹاورز، 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم، کسٹمز افسران کے لیے مکمل دفاتر، محفوظ اور الگ الگ اسٹوریج ایریاز، ڈی اسٹفنگ، معائنہ اور کنٹینرز کی اسکینگ کے لیے مخصوص مقامات قائم کرنا بھی لازمی ہوگا۔حکم نامے کے مطابق پورٹ سے آف ڈاک ٹرمینل تک اور واپس کنٹینرز کی نقل و حرکت صرف وی بوک ای ڈی آئی ماڈیول کے ذریعے اور رجسٹرڈ بانڈڈ کیریئرز کے ذریعے ممکن ہوگی۔ تمام درآمدی کنٹینرز کو پہلے پورٹ پر اسکین کیا جائے گا اور اسکینگ رپورٹ کے ساتھ آف ڈاک ٹرمینل بھیجا جائے گا۔ ٹرمینل کو بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کی سہولت بھی کسٹمز ایکٹ، کسٹمز رولز اور ایس آر او 525کے مطابق فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔کنٹینرز کی سیلنگ اور ڈی سیلنگ بورڈ کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ہوگی جبکہ پورٹ سے روانگی کے وقت کسٹمز اہلکار سیلز اور کنٹینرز کے نمبرز کی تصدیق کریں گے۔ آف ڈاک ٹرمینل پہنچنے پر ہر کنٹینر کا وزن وی بوک سے منسلک ویٹ برج پر کیا جائے گا اور اگر وزن یا سیل میں کوئی فرق پایا گیا تو فوری طور پر کسٹمز حکام کو اطلاع دی جائے گی اور متعلقہ کنٹینر کسٹمز کی اجازت کے بغیر منتقل نہیں کیا جا سکے گا۔ایف بی آر نے ہدایت کی ہے کہ ہر کنٹینر کی ڈی اسٹفنگ کسٹمز افسر اور ٹرمینل کے مجاز نمائندے کی موجودگی میں ہوگی، جہاں پیکجز، نشانات، نمبرز، وزن اور دستاویزات کی مکمل جانچ کی جائے گی۔ کسی بھی کمی، زیادتی یا نقصان کی صورت میں مشترکہ رپورٹ تیار کر کے اسسٹنٹ یا ڈپٹی کلکٹر کو ارسال کی جائے گی، جبکہ ڈی اسٹفنگ مکمل ہونے کے فوراً بعد آو¿ٹ ٹرن رپورٹ جمع کرانا بھی لازمی ہوگا۔خالی کنٹینرز کو فوری طور پر مخصوص یارڈ میں منتقل کیا جائے گا اور ان کے گیٹ پر کسٹمز اہلکار اس بات کی تصدیق کریں گے کہ کنٹینرز مکمل طور پر خالی ہیں۔ اگر کسی خالی کنٹینر میں سامان برآمد ہوا تو کنٹینر کو فوری تحویل میں لے کر کسٹمز سیل کیا جائے گا اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسٹینڈنگ آرڈر کے مطابق درآمدی سامان کی ڈی اسٹفنگ، معائنہ، سیمپلنگ، ویئر ہاو¿سنگ، کلیئرنس،ضبطگی، رہائی اور ترسیل کے تمام مراحل وی بوک اور پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔ برآمدی سامان کی گیٹ ان، جانچ، سیمپلنگ، کنسولیڈیشن، جی ڈیز کی ایسوسی ایشن، وزن، سیلنگ اور میریں ٹرمینل تک ترسیل بھی مکمل طور پر الیکٹرانک نظام اور کسٹمز رولز 2001 کے مطابق ہوگی۔ایف بی آر نے مزید واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت تک کلیئر یا برآمد نہ ہونے والے سامان کی فوری اطلاع اسسٹنٹ یا ڈپٹی کلکٹر کو دی جائے گی تاکہ کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن 82 کے تحت کارروائی کی جاسکے۔ برآمدی و درآمدی سامان اور کنٹینرز کی محفوظ تحویل، خالی کنٹینرز کی واپسی، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور تاخیر یا ڈیٹینشن سرٹیفکیٹس کا احترام آف ڈاک ٹرمینل کی ذمہ داری ہوگی، بصورت دیگر لائسنس کی معطلی یا منسوخی سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔



