کسٹمز مقدمات کی جانچ پڑتال ، چار اسکرونٹی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) وفاقی حکومت نے کسٹمز سے متعلق ہائی کورٹس، سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں مقدمات دائر کرنے کے نظام کو مزید موثر، شفاف اور منظم بنانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کسٹمز رولز 2001 میں اہم ترامیم کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایس آر او 1141 کا ڈرافٹ نوٹیفکیشن شائع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو انڈیپنڈنٹ کیس اسکرونٹی کمیٹی (کسٹمز) رولز 2026نافذ کیے جائیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مجوزہ قواعد پر تمام متعلقہ افراد اور اداروں سے سات روز کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کی گئی ہیں، جن پر غور کے بعد حتمی قواعد نافذ کیے جائیں گے۔مجوزہ قواعد کے تحت ملک بھر میں چار انڈیپنڈنٹ کیس اسکرونٹی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جنہیںشمال، وسطی، جنوبی-I اور جنوبی-II کے نام دیے گئے ہیں۔ ہر کمیٹی تین ارکان پر مشتمل ہوگی، جن میں سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت یا کسی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج بطور چیئرمین،کسٹمز، ٹیکس اور کمرشل قوانین کے شعبے میں کم از کم 15 سالہ تجربہ رکھنے والا سینئر وکیل بطور رکن، جبکہ پاکستان کسٹمز سروس کا حاضر سروس یا ریٹائرڈ گریڈ 20 یا اس سے اوپر کا افسر تیسرے رکن کے طور پر شامل ہوگا۔کمیٹیوں کا بنیادی مقصد یہ ہوگا کہ کسی بھی معاملے کو ہائیکورٹ میں ریفرنس یا سپریم کورٹ و وفاقی آئینی عدالت میں درخواست (سی پی ایل اے/پٹیشن) دائر کرنے سے پہلے اس کا مکمل قانونی، مالی اور انتظامی جائزہ لیا جائے تاکہ صرف مضبوط اور قابلِ دفاع مقدمات ہی عدالتوں میں لے جائے جائیں۔کمیٹیوں کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ پہلے سے زیر سماعت مقدمات اور اپیلوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لے کر یہ فیصلہ کریں کہ آیا مقدمے کو جاری رکھا جائے یا واپس لے لیا جائے۔ اس کے علاوہ طے شدہ اصولوں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں یکساں نوعیت کے مقدمات میں یکساں فیصلے کیے جا سکیں، جبکہ ایسے نظامی مسائل کی بھی نشاندہی کی جائے گی جن کے لیے قانون سازی یا انتظامی اصلاحات درکار ہوں۔مسودے کے مطابق کسی بھی نئے ریفرنس یا سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے سے قبل متعلقہ کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی۔اگر کمیٹی کی سفارش ریکارڈ پر موجود نہ ہو تو نیا مقدمہ دائر نہیں کیا جا سکے گا۔قواعد میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ مقدمات کی جانچ کا پورا عمل پاکستان سنگل ونڈو کے خصوصی پورٹل یا ویبوک نظام کے ذریعے انجام دیا جائے گا، تاہم آن لائن نظام مکمل طور پر فعال ہونے تک دستی کارروائی جاری رکھی جا سکے گی۔ہر کیس کے ساتھ تمام متعلقہ ریکارڈ، قانونی سوالات، عدالتی نظائر، ریونیو پر ممکنہ اثرات، اصل اور اپیلیٹ فیصلے، متعلقہ چیف کلکٹر یا ڈائریکٹر جنرل کی سفارشات اور دیگر ضروری دستاویزات منسلک کرنا لازمی ہوگا۔کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زیر التوا مقدمات کی موجودگی میں روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کریں۔ اجلاس بالمشافہ یا ویڈیو لنک کے ذریعے بھی منعقد کیے جا سکیں گے۔ اجلاس کا کورم تین ارکان پر مشتمل ہوگا، جس میں چیئرمین اور وکیل رکن کی موجودگی لازمی ہوگی، جبکہ فیصلے اکثریتی رائے سے کیے جائیں گے اور اختلافی نوٹ بھی سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہوگا۔قواعد کے مطابق کمیٹی ہر مقدمے پر 15 روز کے اندر فیصلہ کرنے کی کوشش کرے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر چیئرمین مزید 10 روز کی توسیع دے سکیں گے۔ اگر مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہو سکا تو متعلقہ مقدمہ خودکار طور پر عدالت میں دائر کرنے کے لیے کلیئر تصور ہوگا، بشرطیکہ دیگر قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہوں۔فوری نوعیت کے مقدمات، جن میں قانونی مدت ختم ہونے کا خدشہ یا بڑے ریونیو نقصان کا امکان ہو، انہیں ایمرجنسی کیس قرار دے کر چیئرمین فوری فیصلہ کر سکیں گے، تاہم ایسے فیصلے کا 30 روز کے اندر مکمل کمیٹی سے بعد ازاں جائزہ لینا لازمی ہوگا۔چیئرمین اور ارکان کی مدت ملازمت ایک سال ہوگی، جس میں کارکردگی کی بنیاد پر مزید ایک سال کی توسیع دی جا سکے گی۔ استعفیٰ دینے کے لیے 30 روز کا نوٹس دینا ہوگا، جبکہ بدعنوانی، مفادات کے ٹکراﺅ، رازداری کی خلاف ورزی، بدانتظامی یا ناقص کارکردگی کی صورت میں بورڈ انہیں عہدے سے ہٹا سکے گا۔مجوزہ قواعد کے تحت غیر سرکاری ارکان کے لیے پرکشش معاوضے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ چیئرمین کو ماہانہ 12 لاکھ روپے کے علاوہ فی کیس 25 ہزار روپے (زیادہ سے زیادہ 20 مقدمات ماہانہ)، جبکہ وکیل رکن اور ریٹائرڈ کسٹمز افسر رکن کو ماہانہ 8 لاکھ روپے کے ساتھفی کیس 12 ہزار 500 روپے ادا کیے جائیں گے۔ حاضر سروس کسٹمز افسر اور سیکریٹری کو اضافی تنخواہ نہیں ملے گی، تاہم قواعد کے مطابق اعزازیہ یا نقد انعام دیا جا سکے گا۔


