کسٹمز ہائوس کراچی سے 20 کمپیوٹر سیٹس چوری،مرکزی گیٹ پر موجوداہلکاروں کی غفلت بے نقاب، تحقیقات کا حکم

سی سی ٹی وی فوٹیج میں اہلکار کا مشکوک کردار سامنے آ گیا، مرکزی گیٹ کے سیکیورٹی گارڈز کی غفلت بھی بے نقاب
کراچی (کسٹم بلیٹن)کسٹمز ہاو¿س کراچی میں سیکیورٹی کی شدید غفلت اور سرکاری املاک کی چوری کا ایک بڑا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں اسٹور روم سے فیڈرل بورڈ آف ریونیوکی جانب سے فراہم کردہ 20 کمپیوٹر سیٹس پراسرار طور پر چوری کر لیے گئے ہیں۔ واقعے کے انکشاف کے بعد کلکٹریٹ آف کسٹمز اپریزمنٹ (ایسٹ) کراچی کی جانب سے ڈپٹی کلکٹر (ہیڈکوارٹرز) کسٹمز انفورسمنٹ کو خط ارسال کر کے فوری اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔دستیاب سرکاری دستاویزات اور انسپکشن رپورٹ کے مطابق 25 اگست 2026ءکو جب کسٹمز ہاو¿س کراچی کے متعلقہ عملے نے اسٹور روم کھول کر جانچ پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ کمرے میں رکھے گئے 20 کمپیوٹر سیٹس غائب تھے۔ چور انتہائی ہو شیاری سے کمپیوٹر سیٹس لے اڑے اور سامان کے خالی کارٹن اسٹور روم کے اندر ہی چھوڑ گئے۔تحقیقات سے معلوم ہواکہ کسٹمزہاﺅس کراچی کے اسٹورروم سے 7عددآل ان ون کمپیوٹرسیٹس اور13عددتھری ان ون کمپیوٹرسیٹس شامل ہیں۔اسٹور روم کی مکمل تلاشی کے باوجود سامان کا کوئی سراغ نہ مل سکا، جس کے بعد معاملہ ایڈیشنل کلکٹر (ہیڈکوارٹرز) کے علم میں لایا گیا اور ابتدائی انکوائری اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کا عمل شروع کیا گیا۔سی سی ٹی وی فوٹیج کا سنسنی خیز انکشاف ہواکہ جس میں کیمروں کی ریکارڈنگ اور فوٹیج کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ چوری کا واقعہ 13 اگست 2026کی رات 10بج کر33منٹ پر پیش آیا۔ فوٹیج میں دیکھا گیا کہ دو نامعلوم افراد الگ الگ موٹر سائیکلوں پر کسٹمز ہاﺅس کے مرکزی گیٹ سے باہر جا رہے تھے اور ان کے پاس کمپیوٹر یونٹس موجود تھے۔تحقیقات کے دوران سنسنی خیز بات یہ سامنے آئی کہ انفورسمنٹ کلکٹریٹ کا ایک سپاہی عارف شاہ (پی سی نمبر 1485)، جو کہ اصل میں ’فشری‘ پر تعینات تھا، اس وقت مرکزی گیٹ پر موجود تھا اور موٹر سائیکل سوار افراد کے ساتھ گفتگو میں مصروف نظر آیا۔ خط کے مطابق عارف شاہ کی ڈیوٹی فشری پر ہونے کے باوجود کسٹمز ہاﺅس میں اس کی بار بار موجودگی اور واقعے کے وقت ملزمان کے ساتھ اس کی گفتگو شدید شک و شبہات کو جنم دیتی ہے، جس کی تفصیلی جانچ ضروری ہے۔دستاویزات کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کی سنگین غفلت سامنے آئی ہے جبکہ فوٹیج کی براہ راست جانچ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ واقعے کی رات مرکزی گیٹ پر ڈیوٹی کے لیے تعینات تین سپاہی،لائق احمد (پی سی نمبر 1589)، عمران (پی سی نمبر 1706) اور سید جنید علی شاہ،اپنی متعین کردہ ڈیوٹی کی جگہ پر موجود نہیں تھے،تینوں اہلکار مرکزی گیٹ کے ایک حصے کو کھلا چھوڑ کر گیٹ کے بجائے گارڈ روم کے اندر بیٹھے ہوئے تھے۔ ڈیوٹی کے وقت اہلکاروں کی اس غیر موجودگی اور کھلے عام مرکزی راستے سے سرکاری سامان کے باہر منتقل ہونے کو سیکیورٹی کی شدید ناکامی اور لاپرواہی قرار دیا گیا ہے۔اس سلسلے میںڈپٹی کلکٹر (ہیڈکوارٹرز) عبیر جاوید کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں ہدایت کی گئی ہے کہ موٹر سائیکلوں پر سامان لے جانے والے نامعلوم افراد کی فوری شناخت کی جائے۔ سپاہی عارف شاہ کے ڈیوٹی اسٹیٹس، نقل وحرکت اور اس چوری میں اس کے ممکنہ کردار کا تعاقب کیا جائے۔ ڈیوٹی سے غافل نائٹ شفٹ کے تینوں گارڈز کے خلاف سخت ضابطے کی کارروائی شروع کی جائے تاہم واقعے کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز اور متعلقہ ریکارڈ کو بطور ثبوت محفوظ رکھا جائے۔کسٹمز حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ سرکاری املاک کی چوری اور حساس عمارت کی سیکیورٹی میں سنگین خلاف ورزی کا معاملہ ہے، اس لیے ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی




