رشوت ستانی میں ملوث اسلام آباد کسٹمز کے سپرنٹنڈنٹ سمیت 3 افسران معطل

اسلام آباد (کسٹمز بلیٹن) پاکستان کسٹمز میں مبینہ رشوت ستانی، بھتہ خوری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایف بی آر نے کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد کے گریڈ 16 کے تین افسران کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اسلام آباد کی جانب سے گرفتاری کے بعد آرٹیکل 194 سول سروس ریگولیشنز کے تحت معطل کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سپرنٹنڈنٹ فخر اقبال کو 6 اگست 2026، انسپکٹر شاہ زیب علی کو 5 اگست 2026 جبکہ انسپکٹر کرسٹوفر وارس کو 6 اگست 2026 سے معطل کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تینوں افسران کی معطلی ان کی ایف آئی اے اسلام آباد کے ہاتھوں گرفتاری کی تاریخ سے موثر ہوگی۔واضح رہے کہ ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے پاکستان کسٹمز کے ایک سپرنٹنڈنٹ اور دو انسپکٹرز کے خلاف مبینہ رشوت ستانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایت پر کارروائی کی تھی۔ایف آئی اے حکام کے مطابق شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا کہ کسٹمز کے مذکورہ افسران نے مبینہ طور پر آپس میں ملی بھگت کرکے اسے ہراساں کیا، سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور کسٹمز کے ز یر التوا مقدمے میں مبینہ ناجائز رعایت دینے کے عوض بھاری رقم کا مطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر ابتدا میں50 لاکھ روپے رشوت طلب کی گئی، تاہم بعد ازاں 25 لاکھ روپے میں معاملہ طے پانے کا دعویٰ سامنے آیا۔ شکایت کنندہ کو مبینہ طور پر دھمکی دی گئی کہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف اسے بلکہ اس کے خاندان کے افراد اور ساتھیوں کو بھی زیر التوا مقدمے میں ملوث کیا جاسکتا ہے۔شکایت موصول ہونے کے بعد ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے معاملے کی جانچ شروع کی اور قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں **سیکٹر آئی ایٹ اسلام آباد کے ایم وائی ایس ٹی کیفے** میں ٹریپ ریڈ کا منصوبہ بنایا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق کارروائی کے دوران پاکستان کسٹمز کے ایک انسپکٹر کو شکایت کنندہ سے مبینہ طور پر رشوت کی پہلی قسط کے طور پر 5 لاکھ روپے وصول کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں رنگے ہاتھوں گرفتارکرلیا گیا۔ کارروائی کے دوران مبینہ رشوت کی رقم کے طور پر فراہم کی گئی رنگ لگی کرنسی بھی برآمد کرلی گئی جبکہ گرفتار افسر کا موبائل فون قبضے میں لے لیا گیا۔حکام کے مطابق موبائل فون کی ابتدائی فرانزک جانچ کے دوران متعدد وائس چیٹس سامنے آئی ہیں جن سے بادی النظر میں شکایت کنندہ سے رقم بٹورنے کی مبینہ منصوبہ بندی اور اسے و اس کے خاندان کو ہراساں کرنے سے متعلق اہم شواہد ملے ہیں۔ ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔ایف آئی اے نے گرفتار سپرنٹنڈنٹ اور دونوں انسپکٹرز کے خلاف مبینہ رشوت ستانی، بھتہ خوری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔ تفتیشی حکام یہ بھی معلوم کررہے ہیں کہ زیرِ التوا کسٹمز مقدمے میں مبینہ ناجائز رعایت کے عوض رقم طلب کرنے کا فیصلہ کس سطح پر کیا گیا اور آیا اس معاملے میں مزید افراد بھی ملوث تھے یا نہیں۔ٹریپ ریڈ کے دوران برآمد ہونے والی رنگ لگی کرنسی، موبائل فون، وائس چیٹس اور دیگر دستیاب شواہد کو تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی الزامات کی حتمی نوعیت اور ہر ملزم کے کردار کا تعین ہوسکے گا۔محکمہ کسٹمز کے افسران کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی کو بدعنوانی کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ بالخصوص زیر التوا کسٹمز مقدمات میں اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، تاجروں اور متعلقہ افراد کو ہراساں کرنے اور مالی فائدے کے عوض مبینہ رعایت دینے کے الزامات کے تناظر میں اس کارروائی نے محکمہ میں کھلبلی مچا دی ہے۔ایف آئی اے حکام نے کہا ہے کہ بدعنوانی اور رشوت ستانی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی، جبکہ تحقیقات کے دوران مزید شواہد سامنے آنے کی صورت میں قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



