اربوں کا ٹیکس فراڈ اسکینڈل بے نقاب: جعلی مینوفیکچرپر ٹیکس چوری کا مقدمہ درج

کراچی(کسٹم بلیٹن) ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ نے ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کا سراغ لگاتے ہوئے ملزمان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے، میسرز عدنان انٹرپرائزز کے مالک عدنان پر الزام ہے کہ اس نے خود کو جعلی مینوفیکچرنگ یونٹ ظاہر کر کے حکومتی محصولات کو بھاری نقصان پہنچایا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم نے تقریباً 60 کروڑ روپے مالیت کے مختلف اقسام کے ٹیکسٹائل فیبرکس، جن میں پالئیسٹر پائل اور شرٹنگ فیبرکس شامل ہیں، 24 علیحدہ علیحدہ کنسائمنٹس کے ذریعے درآمد کیے، اور اس دوران خود کو رجسٹرڈ مینوفیکچرر ظاہر کر کے سیلز ٹیکس میں غیرقانونی چھوٹ اور انکم ٹیکس میں رعایتی شرح حاصل کی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 6 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا، آڈٹ ٹیم کی جانب سے سائٹ ایریا میں فراہم کردہ پتے کی فزیکل ویری فکیشن کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ وہاں کسی قسم کی مینوفیکچرنگ سرگرمی موجود نہیں بلکہ جگہ دیگر کاروباری اداروں کے زیر استعمال ہے، ایک کمپنی نے کرایہ داری معاہدہ بھی پیش کیا جس سے ثابت ہوا کہ مذکورہ فرم کا وہاں کوئی وجود نہیں، حکام نے متعدد نوٹسز جاری کیے مگر ملزم کسی قسم کی دستاویزی ثبوت یا وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہا، شکایت میں اس عمل کو باقاعدہ “فسکل فراڈ” قرار دیا گیا ہے، کیس عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے جبکہ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ کے کردار، سہولت کاری اور ممکنہ ملی بھگت کی بھی چھان بین جاری ہے، حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ٹیکس نیٹ کو مضبوط بنانے اور ریونیو کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہیں



