Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

کراچی کو ریجنل ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کا منصوبہ خطرے میں، ہیچیسن کی کے زیرانتظام کراچی انٹرنیشنل کنٹینرزٹرمینل پر آپریشنل ناکامیوں سے تجارتی سرگرمیاں متاثر

کراچی (کسٹم بلیٹن)پاکستان کی جانب سے کراچی کو خطے کا اہم ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کی دہائیوں پر محیط کوششیں ہیچیسن کی کے زیرانتظام کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل کی مسلسل آپریشنل ناکامیوں کے باعث خطرے سے دوچار ہو گئی ہیں۔ تجارتی حلقوں اور کسٹمز ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمینل انتظامیہ صرف تین بڑے بحری جہازوں سے آنے والے اضافی کارگو کو سنبھالنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں بندرگاہ پر شدید رش، کنٹینرز کی غیر معمولی تاخیر اور تاجروں پر کروڑوں روپے کے اضافی اخراجات مسلط ہو گئے ہیں۔حکومت پاکستان نے حالیہ برسوں میں کراچی کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد خطے میں تجارتی راستوں کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے وفاقی حکومت نے ٹرانس شپمنٹ قواعد میں نرمی، بندرگاہی چارجز میں کمی اور شپنگ لائنز کے لیے مختلف مراعات کا اعلان کیا تھا۔ ان اقدامات کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا اور کراچی کی بندرگاہ کو ایک متبادل علاقائی مرکز کے طور پر دیکھا جانے لگا۔تاہم تجارتی برادری کے مطابق کراچی انٹرنیشنل کنٹینرزٹرمینلز کی ناقص انتظامی حکمت عملی اور استعداد میں اضافے کے فقدان نے حکومتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ٹرمینل پر کارگو ہینڈلنگ میں سالانہ بنیادوں پر 13.54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ کسٹمز معائنے کے لیے منتخب ہونے والے کنٹینرز کی تعداد میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ٹرمینل کی استعداد کار بڑھانے، جدید مشینری کی تنصیب یا اضافی افرادی قوت کی بھرتی کے لیے کوئی مو¿ثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ذرائع کے مطابق اس وقت کسٹمز ایگزامینیشن کے لیے منتخب کیے گئے کنٹینرز کو گراو¿نڈ ہونے میں آٹھ سے دس دن تک کا وقت لگ رہا ہے، جبکہ ٹرمینل کے ایگزامینیشن یارڈ کی گنجائش تقریباً 300 کنٹینرز سے زیادہ نہیں۔ محدود گنجائش کے باعث روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں کنٹینرز انتظار کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں، جس سے پورے پورٹ سسٹم پر دباﺅ بڑھ رہا ہے۔تاجروں اور کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمینل پر “فرسٹ اِن فرسٹ آو¿ٹ” (فی فو) کے اصول پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق کئی مواقع پر بعد میں آنے والے کنٹینرز کو پہلے کلیئر کر دیا جاتا ہے جبکہ پہلے سے موجود کنٹینرز کو غیر ضروری طور پر روکے رکھا جاتا ہے، جس سے شفافیت اور منصفانہ نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ایک اور سنگین مسئلہ ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز کا ہے۔ کسٹمز حکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے تاخیر اور ڈیٹینشن سرٹیفکیٹس کے باوجود کراچی انٹرنیشنل کنٹینرزٹرمینلزانتظامیہ ان سرٹیفکیٹس کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہی ہے، جس کے باعث درآمد کنندگان کو لاکھوں روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ اس حوالے سے متعدد شکایات وفاقی ٹیکس محتسب اور دیگر متعلقہ فورمز کے سامنے زیر سماعت ہیں۔جنوری 2026 میں حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی” ایکسپریس لین” اسکیم بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی۔ اس اسکیم کا مقصد سنگل آئٹم کنسائمنٹس، صنعتی خام مال اور قابل اعتماد تاجروں کے سامان کی فوری کلیئرنس کو یقینی بنانا تھا، تاہم ٹرمینل کی آپریشنل کمزوریوں کے باعث یہ سہولت بھی مو¿ثر ثابت نہ ہو سکی اور حکومتی اقدامات کا فائدہ عملی طور پر ختم ہو گیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان تقریباتیس برس سے کراچی کو ایک موثر علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماضی میں سکیورٹی خدشات اور پالیسیوں کے عدم تسلسل اس راہ میں رکاوٹ بنتے رہے، لیکن حالیہ علاقائی صورتحال نے پاکستان کو ایک نادر موقع فراہم کیا تھا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت نے پالیسی اور ریگولیٹری سطح پر مطلوبہ اقدامات کیے، تاہم زمینی سطح پر بندرگاہی آپریشنز کی کمزور کارکردگی اس پوری حکمت عملی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔حالیہ ہفتوں میں کارگو کی چوری، سامان کو نقصان پہنچنے اور غلط ہینڈلنگ سے متعلق شکایات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان شکایات کے بعد کسٹمز حکام نے کراچی انٹرنیشنل کنٹینرزٹرمینلزاورساﺅتھ ایشیاءپاکستان ٹرمینلزانتظامیہ کو مسائل کے حل کے لیے سات روز کی مہلت دی تھی۔ اس کے باوجود تاجروں کا کہنا ہے کہ صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔تجارتی حلقوں کے مطابق مذکورہ دونوں پاکستان کے اہم ترین کنٹینر ٹرمینلز ہیں اور دونوں ایک ہی غیر ملکی آپریٹر کے زیر انتظام ہیں۔ اگر یہ نظام صرف چند بڑے جہازوں کے اضافی کارگو کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو یہ صرف ایک آپریشنل مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے تجارتی مفادات، بندرگاہی ساکھ اور کراچی کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے قومی منصوبے کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ماہرین نے حکومت، وزارت بحری امور، پورٹ حکام اور کسٹمز انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے کراچی انٹرنیشنل کنٹینرزٹرمینلز کی کارکردگی، دستیاب انفراسٹرکچر، مشینری اور افرادی قوت کا جامع آڈٹ کرائیں تاکہ پاکستان کو حاصل ہونے والے اس اہم تجارتی موقع کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button