Breaking NewsEham Khabar

ایف بی آر کا چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس طریقہ کار متعارف

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیوایس آر او 1109کے ذریعے چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس طریقہ کارکا مسودہ جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے سات روز کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کر لی ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق اس اسکیم کا مقصد چھوٹے کاروباری طبقے کو آسان، سادہ اور رضاکارانہ ٹیکس نظام فراہم کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور ٹیکس دہندگان کے لیے تعمیل کو آسان بنانا ہے۔مسودے کے مطابق یہ خصوصی طریقہ کار صرف ایسے انفرادی دکانداروں پر لاگو ہوگا جن کی آمدنی بنیادی طور پر ریٹیل دکان سے حاصل ہوتی ہو اور جن کا سالانہ کاروبار20کروڑ روپے تک ہو۔ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ اسکیم ان افراد پر لاگو نہیں ہوگی جن کا گزشتہ تین برسوں میں کسی ایک سال کا کاروبار 20 کروڑ روپے سے زیادہ رہا ہو یا جو ایک سے زیادہ دکانوں کے مالک ہوں، زیورات فروخت کرتے ہوں یا پیشہ ورانہ خدمات جیسے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل وغیرہ فراہم کرتے ہوں۔ اسی طرح دکان کے علاوہ دیگر ذرائع آمدن اس خصوصی طریقہ کار میں شامل نہیں ہوں گے۔ ٹیکس سال 2025 کا ریٹرن جمع کرانے والے ریٹیلرز بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے، بشرطیکہ ان کا قابل ادا ٹیکس گزشتہ سال سے کم نہ ہو اور انہوں نے اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے کاروبار کا نام تبدیل یا تقسیم نہ کیا ہو۔مسودے کے تحت اہل دکاندار ایف بی آر کے آئی آر آئی ایس پورٹل، موبائل ایب یا قریبی ٹیکس دفتر کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکیں گے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ اسکیم مکمل طور پر رضاکارانہ ہوگی اور دکاندار چاہیں تو اس خصوصی طریقہ کار کے تحت ٹیکس ادا کریں یا معمول کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں۔خصوصی طریقہ کار کے تحت مجموعی سالانہ کاروبار پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ دکاندار پہلے سے کٹوتی شدہ ودہولڈنگ ٹیکس کو اپنی قابل ادا رقم سے منہا کر سکیں گے، تاہم اگر ودہولڈنگ ٹیکس قابل ادا کم از کم ٹیکس سے زیادہ بھی ہو تو اضافی رقم واپس نہیں کی جائے گی۔اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہر دکاندار کو کم از کم 25 ہزار روپے نقد ٹیکس ریٹرن کے ساتھ جمع کرانا ہوگا، خواہ اس کی جانب سے پہلے ہی کتنی بھی ٹیکس کٹوتی ہو چکی ہو۔ قابل ادا ٹیکس یا 25 ہزار روپے، دونوں میں سے جو زیادہ ہوگا، وہ ادا کرنا لازمی ہوگا۔ایف بی آر نے اس خصوصی طریقہ کار کے تحت رجسٹرڈ دکانداروں کو عام حالات میں آڈٹ سے استثنیٰ دینے کی تجویز بھی دی ہے تاہم اگر ایف بی آر کو کسی تیسرے فریق سے غیر معمولی مالی لین دین، مہنگے اثاثوں کی خریداری یا اس اسکیم کے غلط استعمال سے متعلق مصدقہ معلومات موصول ہوں تو متعلقہ تجارتی تنظیموں سے مشاورت کے بعد کارروائی کی جا سکے گی۔مسودے کے مطابق دکاندار ایک سادہ ریٹرن فارم کے ذریعے آئی آر آئی ایس پورٹل یا موبائل ایپ پر سالانہ فروخت، خریداری، کاروباری اخراجات، خالص منافع اور اپنے جائز اثاثوں کی تفصیلات جمع کرا سکیں گے۔ اس خصوصی طریقہ کار کے تحت رجسٹرڈ دکانداروں کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 153 کے تحت خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کاٹنے کی ذمہ داری سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اسی طرح کم از کم ٹیکس سے متعلق دفعہ 113 اور 1.25فیصد ٹیکس کی شق بھی ان پر لاگو نہیں ہوگی۔ایف بی آر نے تجویز دی ہے کہ اگر کوئی دکاندار نہ تو مقررہ تاریخ تک معمول کا انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرائے اور نہ ہی اس خصوصی طریقہ کار کو اختیار کرے تو پہلی خلاف ورزی پر 10 ہزار روپے، دوسری پر 25 ہزار روپے اور تیسری خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ ہر کارروائی کے درمیان کم از کم ایک ماہ کا وقفہ رکھا جائے گا۔مسودے کے مطابق اس خصوصی طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے والے حقیقی چھوٹے دکانداروں کو سیلز ٹیکس پوائنٹ آف سیل (پی اوایس) سسٹم یا ڈیجیٹل انوائسنگ نظام نصب کرنے سے بھی استثنیٰ حاصل ہوگا۔مزید برآں، اس اسکیم کے تحت رجسٹرڈ دکاندار اپنی ادا کردہ ٹیکس رقم کی بنیاد پر “درآمدی انکم” کا کریڈٹ بھی حاصل کر سکیں گے، جسے ذاتی اخراجات اور اثاثوں میں اضافے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔ایف بی آر ہر اہل اور رجسٹرڈ دکاندار کو ایک خصوصی گرین پلیٹ جاری کرے گا، جس پر دکاندار کا نام، این ٹی این، دکان کا پتہ اور ایک کیو آر کوڈ درج ہوگا۔ اس پلیٹ کو دکان کے باہر نمایاں مقام پر آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔ کیو آر کوڈ میں دکان کے مقام اور ملکیت کی تفصیلات موجود ہوں گی۔ مسودے میں مزید تجویز دی گئی ہے کہ ایسی گرین پلیٹ آویزاں کرنے والے حقیقی دکاندار کی دکان میں ٹیکس معاملات کے سلسلے میں ایف بی آر کا کوئی افسر داخل نہیں ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button