Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

پاکستان کسٹمز کے گروپ لیس اسسمنٹ ماڈل کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

کراچی (کسٹم بلیٹن) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی کسٹمز ایڈوائزری کونسل کے چیئرمین اور سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی خرم اعجاز نے پاکستان کسٹمز میں فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ کے نفاذ کے بعد متعارف کرائے گئے گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل کی کارکردگی کا آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے ادارہ جاتی اصلاحاتی اقدامات کو شواہد، قابل پیمائش نتائج اور بین الاقوامی معیار کی روشنی میں جانچا جانا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان اصلاحات سے تجارت میں سہولت، محصولات کے تحفظ اور کسٹمز نظام کی کارکردگی میں حقیقی بہتری آئی ہے یا نہیں۔ خرم اعجاز نے واضح کیا کہ ان کا یہ مطالبہ فیس لیس اسسمنٹ پر تنقید نہیں بلکہ اس اصلاحاتی عمل کو مزید موثر بنانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیس لیس اسسمنٹ کا بنیادی مقصد شفافیت، دیانتداری، یکسانیت اور انسانی مداخلت میں کمی لانا ہے، تاہم اس کے ساتھ روایتی شعبہ جاتی یا سیکٹر مخصوص اسسمنٹ گروپس کے خاتمے کی صورت میں ایک بڑی انتظامی تبدیلی بھی عمل میں آئی، جس کے نتائج کا اب غیر جانبدارانہ جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔خرم اعجاز نے کہا کہ پاکستان نے مکمل طور پر گروپ لیس اسسمنٹ ماڈل اختیار کیا، جبکہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک نے فیس لیس نظام نافذ کرنے کے باوجود شعبہ جاتی مہارت کو برقرار رکھا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے فیس لیس اسیسمنٹ کے نفاذ کے بعد نیشنل اسسمنٹ سینٹرز اورفیس لیس اسسمنٹ گروپس قائم کرکے مختلف شعبوں میں تکنیکی مہارت کو مزید مضبوط بنایا، جبکہ امریکہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا اور سنگاپور جیسے ممالک آج بھی پیچیدہ تجارتی اشیا ءکی جانچ پڑتال کے لیے شعبہ وار مہارت رکھنے والے افسران پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ورلڈکسٹمزآرگنائزیشن مسلسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ ٹیرف درجہ بندی، کسٹمز ویلیوایشن، رسک مینجمنٹ اور پیچیدہ درآمدی اشیا ءکی جانچ کے لیے خصوصی فنی مہارت ناگزیر ہے۔ جدید بین الاقوامی تجارت میں مشینری، کیمیکلز، دواسازی، الیکٹرانکس اور دیگر تکنیکی مصنوعات کی درست اسسمنٹ صرف ایسے افسران ہی کر سکتے ہیں جو متعلقہ شعبوں میں مہارت اور تجربہ رکھتے ہوں۔خرم اعجاز نے تجویز دی کہ پاکستان کسٹمز کو چاہیے کہ وہ گروپ لیس اسسمنٹ ماڈل کی کارکردگی کاآزادانہ کارکردگی جائزہ کرائے، جس میں عالمی بینک،ورلڈکسٹمزآرگنائزیشن ورلڈ کسٹمزآرگنائزیشن یا ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے معتبر بین الاقوامی اداروں کی معاونت حاصل کی جائے تاکہ پاکستان کے موجودہ ماڈل کا تقابلی جائزہ عالمی بہترین طریقہ کار کے مطابق لیا جا سکے۔انہوں نے مزیدکہا کہ اس جائزے میں یہ دیکھا جانا چاہیے کہ آیا موجودہ نظام سے کسٹمزاسسمنٹ اور سامان کی کلیئرنس کا دورانیہ کم ہوا ہے، بندرگاہوں پر کنٹینرز کے قیام کا وقت کم ہوا ہے، تاجروں کے لیے سہولت اور پیش گوئی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، ٹیرف درجہ بندی اور کسٹمز ویلیوایشن میں یکسانیت آئی ہے، تنازعات اور عدالتی مقدمات میں کمی واقع ہوئی ہے، محصولات کے تحفظ کو تقویت ملی ہے اور تکنیکی نوعیت کی درآمدی اشیا کی اسیسمنٹ کے معیار میں بہتری آئی ہے یا نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بینک کے حالیہ تجارتی سہولت کے فریم ورک میں کسٹمز کی کارکردگی جانچنے کے لیے کسٹمز پراسیسنگ ٹائم، کارگو ڈویل ٹائم، سرحدی کارکردگی اور تجارتی سہولت جیسے اشاریوں کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے، اس لیے پاکستان میں بھی اصلاحاتی اقدامات کو انہی قابل پیمائش معیاروں کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے۔خرم اعجاز نے کہا کہ اگر آزادانہ جائزہ یہ ثابت کرے کہ موجودہ گروپ لیس اسسمنٹ ماڈل بہترین نتائج دے رہا ہے تو اسے مزید مضبوط اور موثر بنایا جائے، تاہم اگر جائزے میں بہتری کی گنجائش سامنے آئے تو پاکستان کسٹمز کو ایسا ہائبرڈ ماڈل اختیار کرنے پر غور کرنا چاہیے جس میں فیس لیس اسسمنٹ کی شفافیت کے ساتھ شعبہ جاتی تکنیکی مہارت کو بھی شامل کیا جائے، جیسا کہ دنیا کے کئی کامیاب کسٹمز نظاموں میں رائج ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button