کیمیکلز کی درآمد پر تین ماہ کے لیے ایکسپلوسوز لائسنس کی شرط ختم

کراچی (کسٹم بلیٹن) وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی ہدایات کی روشنی میں محکمہ انرجی ایکسپلوسوز نے صنعتی شعبے کو ریلیف دیتے ہوئے پیٹرولیم کلاس اے، بی اور سی میں شامل بعض کیمیکلز اور پیٹروکیمیکلز کی درآمد اور کلیئرنس کے لیے درکار ایکسپلوسوز لائسنس کی شرط سے تین ماہ کے لیے ایک مرتبہ خصوصی استثنا دے دیا ہے۔ چیف کلکٹر آف کسٹمز کراچی کو ارسال کیے گئے مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے 25 جون 2026 کے خط کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ صنعتی صارفین، جو اپنی فیکٹریوں یا صنعتی استعمال کے لیے پیٹرولیم کلاس اے، بی اور سی کے تحت آنے والے کیمیکلز یا پیٹروکیمیکلز درآمد کرتے ہیں، انہیں نوٹیفکیشن کے اجرا کی تاریخ سے تین ماہ تک ایکسپلوسوز لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ سہولت صرف ان صنعتی اداروں کے لیے ہوگی جو مذکورہ کیمیکلز اپنی ذاتی صنعتی ضروریات کے لیے درآمد کریں گے اور اس رعایت کا مقصد صنعتی خام مال کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانا اور درآمدی عمل کو آسان بنانا ہے۔تاہم محکمہ ایکسپلوسوز نے واضح کیا ہے کہ یہ خصوصی رعایت لائٹ ایلیفیٹک ہائیڈروکاربن سالونٹ (ایل اے ایچ ایس)، وائٹ اسپرٹ اور زمینی راستوں کے ذریعے درآمد کیے جانے والے ایسے دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر لاگو نہیں ہوگی جنہیں ممکنہ طور پر انجن ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان مصنوعات کی درآمد بدستور پیٹرولیم رولز کے تحت ریگولیٹ کی جائے گی اور ان کے لیے تمام متعلقہ لائسنسنگ شرائط پوری کرنا لازمی ہوگا۔مراسلے میں چیف کلکٹر آف کسٹمز کراچی سے کہا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ضروری انتظامی اقدامات کریں تاکہ اہل صنعتی صارفین کو مقررہ مدت کے دوران اس رعایت کا فائدہ حاصل ہو سکے۔



