Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

ایف ٹی اوکا فیصلہ ،گاڑیوں کی نیلامی میں بدعنوانی میں ملوث کسٹمزافسران کے خلاف کارروائی کا حکم

کراچی (کسٹم بلیٹن) وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑی کی نیلامی میں کسٹم حکام کی جانب سے کی جانے والی شدید بے ضابطگیوں، قانون شکنی اور بدعنوانی کا پردہ فاش کرتے ہوئے متعلقہ اہلکار کے خلاف جاری انکوائری کو منطقی انجام تک پہنچانے اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مدعی عمر رحیم نے کسٹم کلکٹریٹ (انفورسمنٹ) حیدرآباد و سکھر کے تحت 23 فروری 2026 کو سکھر میں ہونے والی نیلامی کے دوران این سی پی ٹویوٹا کراﺅن ماڈل 2005 کی سب سے زیادہ 53 لاکھ روپے (5.3 ملین) کی بولی دی تھی، تاہم کسٹم افسران نے نہ صرف قانونی طریقہ کار اور کسٹم رولز 2001 کے رول67کی دھجیاں اڑائیں بلکہ بدعنوانی اور من مانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیاب بولی دینے والے سے مقررہ 25 فیصد رقم حاصل کرنے کے بجائے صرف 9 لاکھ روپے وصول کیے اور بعد ازاں کسٹم کے بدعنوان عناصر نے یہ رقم بھی پراسرار طور پر واپس کر کے گاڑی کو دوبارہ نیلام کر دیا، جس سے قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ ایف ٹی او کے سامنے نظرثانی کی سماعت کے دوران کلکٹر کسٹم ڈاکٹر ناصر خان نے کسٹم ڈیپارٹمنٹ کی اس سنگین لاپرواہی اور بے ضابطگی کا اعتراف کیا کہ رقم کی واپسی میں ملوث کسٹم اہلکار کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے، جبکہ کسٹم حکام نے شہری کو 9 لاکھ روپے کی رقم تاحال واپس نہ ملنے اور بغیر کسی رسمی تحریری نوٹس یا قانونی کارروائی کے فون کالز پر ہی معاملات چلانے اور شہری کو بلیک لسٹ کرنے جیسے غیر قانونی اقدامات کا بھی اعتراف کیا۔ فیڈرل ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ کو واضح ہدایت کی ہے کہ رقم کی مبینہ بدعنوانی میں ملوث کسٹم اہلکار کے خلاف جاری انکوائری کو بلا تاخیر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور اس پر کی جانے والی کارروائی کی رپورٹ متعلقہ اتھارٹی کو پیش کی جائے، جبکہ کسٹم حکام کو خبردار کیا گیا ہے کہ مستقبل میں نیلامی کے تمام عمل، کامیاب بولی دہندگان سے خط و کتابت اور دیگر اقدامات کو قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف اور تحریری طور پر محفوظ بنایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button