چھالیہ کی صنعت کو سازش کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے، قانونی درآمد اور فیکٹریاں بغیر خوف کے چلائی جائیں،بیٹل نٹ ایسوسی ایشن

کراچی (کسٹم بلیٹن)ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک میں چھالیہ کی صنعت کا تباہ کیاجارہاہے جس کا براہ راست اورتمام تر فائدہ اسمگرمافیاکوپہنچ رہاہے ان خیالات کا اظہارآل پاکستان بیٹل نیٹ مینوفیکچررز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن (ایپ میا) کے جنرل سیکریٹری اقبال نے اپنے ایک بیان میں کیاہے ۔انہوں نے صنعت سے وابستہ تمام افراد کو متحد ہونے اور خوف کے بغیر کام کرنے کا پیغام دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اپنے ایک اہم بیان میں ایپ میا کے جنرل سیکریٹری نے چھالیہ کی صنعت کو درپیش سنگین بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والی اس صنعت کو غیر ضروری رکاوٹوں اور سازشوں کے ذریعے مفلوج کیا جا رہا ہے، جس سے قانونی کاروبار کرنے والے تاجر شدید متاثر ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اسمگلنگ میں ملوث عناصر مستفید ہو رہے ہیں۔انہوں نے صنعت سے منسلک تمام تاجروں، امپورٹرز اور مل مالکان کو دعوت دی کہ وہ آگے آئیں اور قانونی درآمدات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے تمام ڈسٹری بیوٹرز اور فیکٹری مالکان کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے خوف، ڈر یا دباﺅ کے بغیر اپنے کارخانوں اور فیکٹریوں کو کھل کر چلائیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایسوسی ایشن کے معتبر اور فعال پلیٹ فارم سے سرکاری اداروں کے اربابِ اختیار اور حکامِ بالا سے براہِ راست رابطے قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان رابطوں کا بنیادی مقصد چھالیہ کی صنعت کو درپیش درپیش تمام تر رکاوٹوں کا پائیدار حل نکالنا ہے۔ خصوصاً کسٹمز، ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن اور لیبارٹریز سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔جنرل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ایسوسی ایشن دن رات اس جدوجہد میں سرگرمِ عمل ہے تا کہ تاجروں کے تمام تحفظات دور کیے جا سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ چھالیہ کی صنعت سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور قانونی تجارت کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو دور کرایا جائے گا



