سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ ، اسمگلنگ اور کرپشن کیس میں سابق ڈائریکٹر انفورسمنٹ عثمان باجوہ باعزت بری

کراچی (کسٹم بلیٹن)سندھ ہائی کورٹ نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں درج کرپشن اور اسمگلنگ کی معاونت کے مقدمے میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کسٹمز کے سینئر افسر اور سابق ڈائریکٹر انفورسمنٹ اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن (اے ایس او) عثمان باجوہ کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔سندھ ہائی کورٹ کے فاضل جج جناب جسٹس جان علی جونیجو نے عثمان باجوہ کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر محفوظ شدہ 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔عدالتِ عالیہ نے اسپیشل جج کسٹمز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی اسمگلنگ ور اسپیشل جج کراچی کے ٹرائل کورٹس کے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا جن کے تحت ملزم کی ضابطہ فوجداری کی دفعہ( کے265-) کے تحت بریت کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے جولائی 2023 میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے ڈومیسٹک ڈیپارچر لاو¿نج سے کسٹمز کے دو اہلکاروں کو اسلام آباد جاتے ہوئے حراست میں لیا تھا۔ گرفتار ملزمان کے مبینہ بیانات کی روشنی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق ڈائریکٹر اے ایس او عثمان باجوہ کو بھی مارچ 2023 سے اپریل 2023 کے دوران نقد رقم اور سونے کی شکل میں16 کروڑ روپے دیے گئے، جبکہ بعد میں بھی اسمگلنگ کی سہولت کاری کے عوض ماہانہ 10کروڑ روپے ادا کیے جاتے رہے۔ اس بنیاد پر ایف آئی اے نے ایف آئی آر نمبر 19/2023 درج کر کے عثمان باجوہ کو نامزد کیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 38 کے تحت پولیس یا ایجنسی کی تحویل میں شریک جرم کا دیا گیا اعترافی بیان کسی دوسرے ملزم کے خلاف بنیادی شہادت کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس کی آزادانہ اور ٹھوس شواہد سے تصدیق نہ ہو۔ عدالتی فیصلے کے مطابق، عثمان باجوہ نہ تو ایئرپورٹ پر موقع سے گرفتار ہوئے اور نہ ہی ان کے قبضے سے کوئی نقد رقم، غیر ملکی کرنسی، سونا یا اسمگل شدہ سامان برآمد ہوا۔ پراسیکیوشن کی جانب سے کروڑوں روپے کی غیر قانونی ادائیگیوں یا سونے کے بسکٹس کی ترسیل کے حوالے سے کوئی مخصوص تاریخ، وقت، مقام یا لین دین کا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ نہ ہی جیولرز کی رسیدوں، سی سی ٹی وی فوٹیج یا ڈی وی آر (DVR) کا عثمان باجوہ سے کوئی سائنسی یا فارنزک تعلق ثابت ہو سکا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسی کیس سے منسلک دیگر ملزمان بشمول اعجاز احمد، محمد عامر تھیم، تسلیم اختر، محمد دانش، شہباز احمد، امجد حسین راجپر، طارق حسین اور عبید اللہ کو پہلے ہی ٹرائل کورٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ (کے265)کے تحت بری کر چکی ہیں۔ جسٹس جان علی جونیجو نے فیصلہ سنایا کہ موجودہ ریکار ڈ اور شواہد کی روشنی میں عثمان باجوہ کی سزا کا کوئی امکان نہیں ہے، لہٰذا ٹرائل کا سلسلہ جاری رکھنا عدالتی وقت کے ضیاع اور قانون کے عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہوگا۔سندھ ہائی کورٹ نے عثمان باجوہ کی دونوں نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے نچلی عدالتوں کے فیصلوں کوکالعدم کر دیا عثمان باجوہ کو تمام الزامات سے باعزت بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

