کراچی کی بندرگاہوں سے سینکڑوں کنٹینرز غائب

کراچی(کسٹم بلیٹن) رواں سال کراچی کی بندرگاہوں سے سینکڑوں کنٹینرز کے غائب ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے اور یہ کنٹینرز پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹیڈ (پرال) کے مرکزی ڈیجیٹل ریکارڈ سے بھی غائب پائے گئے ہیں، ساﺅتھ زون میں ابھرتے اس میگا اسکینڈل نے اربوں روپے کے ممکنہ ٹیکس چوری کے شبہات کو جنم دے دیا ہے، ذرائع کے مطابق کسٹم ہاو¿س کراچی میں اس سلسلے میں ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں چیئرمین ایف بی آر زوم کے ذریعے شریک تھے جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعلیٰ افسران، ممبر کسٹمز آپریشنز، چیف کلکٹر اپریزمنٹ ساو¿تھ، کلکٹر کسٹمز اور تمام کلکٹریٹس کے کلکٹرز نے شرکت کی، اجلاس میں کنٹینرز کے ریکارڈ کی تفصیلی چھان بین کی گئی اور صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں پہلے ہی 12 ہزار سے زائد کنٹینرز کی گمشدگی کے بعد یہ نیا واقعہ پورے کسٹمز نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر اور چیئرمین کے پی ٹی نے فوری اور سخت کارروائی کے واضح اشارے دے دیئے ہیں، ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پرال کے مرکزی ڈیجیٹل نظام سے بھی یہ کنٹینرز غائب ہیں، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ اور مشکوک ہو گیا ہے، گزشتہ ایک ہفتے سے بندرگاہوں پر کنٹینرز کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور متعدد کنٹینرز کو بلاک کیا گیا ہے، تاہم لاپتہ کنٹینرز کا کوئی سراغ ابھی تک نہیں مل سکا، اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کی تیاری بھی جاری ہے جو یہ جانچ کرے گی کہ لاپتہ کنٹینرز میں کیا سامان موجود تھا، ان کی مالیت کتنی تھی، کتنا ٹیکس اور ڈیوٹی لاگو تھی اور آیا وہ ادا ہوئی یا نہیں، ذرائع نے بتایا کہ ٹریکنگ کمپنیوں کی کارکردگی بھی تنقید کی زد میں آئے گی کیونکہ زیادہ تر کنٹینرز کانوائے کے ذریعے منتقل ہوئے مگر ٹریس نہ ہو سکے، ملک کی بڑی بندرگاہوں سے کنٹینرز کی دوبارہ گمشدگی نے نہ صرف محصولات کو بھاری نقصان پہنچایا ہے بلکہ پورے کسٹمز انفراسٹرکچر کی ساکھ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد اعلیٰ حکام نے فوری کارروائی اور مکمل شفافیت کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔




