Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

برآمدی کارگو کی ٹریکنگ ناگزیر،سیلزٹیکس فراڈ اور 3.4 کھرب روپے ٹیکس کم وصولی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

کراچی(کسٹم بلیٹن) پاکستان میں 3.4 کھرب روپے کے ٹیکس کی کم وصولی ، اربوں روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ اور کسٹمز نظام میں سامنے آنے والی سنگین بے ضابطگیوں کے تناظر میں ماہرین نے محکمہ کسٹمز پر زور دیا ہے کہ اندرون ملک صنعتی مراکز سے بندرگاہوں تک جانے والے برآمدی کنسائمنٹس کی ٹریکنگ کا نظام فوری طور پر نافذ کیا جائے تاکہ برآمدی کنسائمنٹس کی سپلائی چین کو محفوظ، محصولات کے نقصان کو روکا جا سکے اور تجارتی شفافیت میں اضافہ ہو۔ لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ اور دیگر صنعتی مراکز سے کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم تک جانے والے کنٹینرز پرجی پی ایس اور( آرایف آئی ڈی) ٹیکنالوجی سے لیس الیکٹرانک سیلز نصب کیے جائیں گے یہ سیلز کنٹینرز کی نقل و حرکت کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کریں گے جبکہ ایک مرکزی مانیٹرنگ پلیٹ فارم کو مسلسل معلومات فراہم کریں گے کسی بھی غیر مجاز راستہ تبدیلی، سیل توڑنے یا مشکوک تاخیر کی صورت میں نظام فوری الرٹ جاری کرے گا تاکہ کسٹمز حکام بروقت کارروائی کر سکیں۔تفصیلات کے مطابق اس وقت ڈرائی پورٹس سے کلیئر ہونے کے بعد 1200سے1400 کلومیٹر طویل سفر کے دوران کسٹمز حکام کے پاس کارگو کی موثر نگرانی کا کوئی جامع نظام موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راستے میں سامان کی غیر قانونی تبدیلی، اسمگلنگ،مس ڈیکلریشن، کارگو میں چھیڑ چھاڑ اور دیگر بے ضابطگیوں کے خدشات برقرار رہتے ہیں۔پاکستان کی بندرگاہی سرگرمیوں کے حجم کو دیکھتے ہوئے اس نظام کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک کی تین بڑی بندرگاہوں نے مجموعی طور پر تقریباً 3.38 ملین ٹی ای یوزکنٹینر کارگو ہینڈل کیا جبکہ صرف کراچی پورٹ نے مالی سال2023-24 کے دوران ریکارڈ 2.65 ملین ٹی ای یوز کارگو ہینڈل کیا۔ اس کارگو کا بڑا حصہ پنجاب کے ٹیکسٹائل، لیدر اور دیگر برآمدی شعبوں سے تعلق رکھتا ہے جو ملک کی برآمدی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ورلڈ کسٹمز اورگنائزیشن بھی جی پی ایس اور(آر ایف آئی ڈی) پر مبنی الیکٹرانک سیلز کو بین الاقوامی سپلائی چین کی سیکیورٹی کے لیے موثر ذریعہ قرار دے چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں یہ نظام کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو جائز برآمد کنندگان کو بھی نمایاں فائدہ پہنچے گا کیونکہ راستے میں غیر ضروری معائنوں میں کمی آئے گی، کلیئرنس کا عمل تیز ہوگا اور شپنگ شیڈول کی پابندی آسان بن سکے گی، خاص طور پر ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے جہاں وقت کی پابندی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔تاہم ماہرین اس تجویز کو نافذ کرتے وقت ماضی کے تلخ تجربات کو نظر انداز نہ کرنے کا مشورہ بھی دے رہے ہیں۔ پاکستان سنگل ونڈوجیسے جدید ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کے باوجود بعض افسران اور تجارتی عناصر کے گٹھ جوڑ کے ذریعے نظام کے غلط استعمال کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ اسی طرح فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کے بارے میں اطلاعات سامنے آئیں کہ اس کے ابتدائی چند ماہ میں قومی خزانے کو تقریباً 100 ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔مزید برآں اکتوبر2025 میں وزیراعظم کی ہدایت پر ایف بی آر کے آٹومیشن سسٹمز کے ذریعے ہونے والے اربوں روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ کی فرانزک تحقیقات شروع کی گئیں۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ڈیٹا بیس کنٹرولز اور نگرانی کے کمزور نظام کے باعث2018-19 سے ٹیکس ریکارڈ میں منظم انداز میں ردوبدل کیا جاتا رہا جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک کارگو ٹریکنگ سسٹم بھی انہی خطرات کا شکار ہو سکتا ہے۔جی پی ایس سگنلز کو جعلی بنایا جا سکتا ہے، جغرافیائی حدود جیو فینسنگ میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے، جبکہ سسٹم تک رسائی رکھنے والے عناصر کی جانب سے خلاف ورزیوں کے الرٹس دبانے یا ریکارڈ میں تبدیلی کے امکانات بھی موجود ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جہاں الیکٹرانک ٹریکنگ نظاموں کو اندرونی معاونت کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔اس کے باوجود تجارتی اور کسٹمز امور کے ماہرین کا موقف ہے کہ الیکٹرانک ٹریکنگ سسٹم کوموخر کرنے کے بجائے اسے مضبوط حفاظتی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ نظام برآمدی سفر کے دوران نگرانی کوموثر بنا سکتا ہے، تاہم انڈر انوائسنگ، غلط ڈیکلریشن اور فیکٹری یا گودام کی سطح پر ہونے والی دھوکہ دہی کے خاتمے کے لیے اضافی تصدیقی اور آڈٹ میکانزم بھی ناگزیر ہوں گے۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نظام کی کامیابی صرف ٹیکنالوجی پر منحصر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ مانیٹرنگ پلیٹ فارم کی نگرانی کون کرے گا، خلاف ورزیوں پر کیا کارروائی ہوگی، اور سسٹم کے ڈیٹا کی آزادانہ جانچ اور آڈٹ کس ادارے کے ذریعے کیا جائے گا۔ اگر ان بنیادی سوالات کے تسلی بخش جوابات اور مضبوط احتسابی ڈھانچہ فراہم نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ الیکٹرانک ٹریکنگ سسٹم بھی ماضی کے دیگر خودکار نظاموں کی طرح بدعنوان عناصر کے لیے ایک نیا راستہ بن سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button