اسمگلنگ کے نام پر اپ کنٹری جانے والے کنسائمنٹس غیر ضروری روکنامعمول بن گیا

کراچی(کسٹم بلیٹن) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ ملک کی کاروباری، صنعتی اور تجارتی برادری کو کسٹمز کے پریونٹو اور اینٹی اسمگلنگ شعبوں کے بعض طریقہ کار اور مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات ہیں، جن کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اینٹی اسمگلنگ کے عمل میں انسانی مداخلت کم سے کم کی جائے تاکہ شفافیت اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر ایسی اطلاعات موصول ہوتی ہیں کہ اپ کنٹری جانے والے درآمدی کنسائمنٹس کو راستے میں غیر ضروری طور پر روک لیا جاتا ہے اور کنٹینرز و سامان کی دوبارہ جانچ پڑتال کے نام پر تاجروں اور درآمد کنندگان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرز عمل سے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ کاروباری لاگت میں بھی غیر ضروری اضافہ ہوتا ہے،۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے سینئرنائب پریزیڈنٹ ثاقب فیاض مگوں، نائب پریزیڈنٹ آصف سخی، فیڈریشن کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے کسٹمز انفورسمنٹ کے کنوینر ارشد جمال،چیئرمین ایپکاارشدخورشید،وائس چیئرمین ایپکاقمرالسلام، سابق چیئرمین ایپکا، چیئرمین سپریم کونسل ایپکا موجودتھے۔فیڈریشن کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ تاجروں کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ ایسے کنسائمنٹس کو بھی روکا جاتا ہے جو پہلے ہی کسٹمز اپریزمنٹ عملے کی جانب سے مکمل جانچ، تشخیص اور ڈیوٹی و ٹیکس کی ادائیگی کے بعد کلیئر کیے جا چکے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ڈیوٹی ادا شدہ اور کلیئر شدہ سامان کی دوبارہ جانچ کی کوئی قانونی یا منطقی بنیاد نہیں بنتی، تاہم اگر کسی مخصوص کنسائنمنٹ سے متعلق مستند انٹیلی جنس یا ٹھوس معلومات موجود ہوں تو کارروائی کی اجازت ہونی چاہیے۔انہوں نے تجویز دی کہ ایسی صورت میں چیکنگ صرف اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کے کسی ذمہ دار افسر کے ذریعے کی جائے جس کا عہدہ کم از کم اسسٹنٹ کلکٹر کے برابر ہو، تاکہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ثاقب مگوں نے مزید کہا کہ موجودہ قوانین اور قواعد و ضوابط کا ازسرنو جائزہ لینے اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کلیئرنگ ایجنٹس کے کردار اور ذمہ داریوں کو بھی واضح طور پر قانون میں متعین کیا جائے تاکہ غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ فیڈریشن کی قائمہ کمیٹی برائے کسٹمز انفورسمنٹ اس حوالے سے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔فیڈریشن کے نائب صدر آصف سخی نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے کہ کسٹمز کی جانب سے درج کیے جانے والے مقدمات میں اکثر کلیئرنگ ایجنٹس کو بھی درآمد کنندگان کے ساتھ برابر کا ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ ان کا کردار محدود نوعیت کا ہوتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کلیئرنگ ایجنٹ صرف درآمد کنندہ کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات، جن میں انوائس، پیکنگ لسٹ، بل آف لیڈنگ اور دیگر متعلقہ کاغذات شامل ہوتے ہیں، کی بنیاد پر اپنے لائسنس کے تحت گڈز ڈیکلریشن فائل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر درآمد کنندہ کی جانب سے درآمدی پالیسی، ویلیوایشن یا کسی اور قانونی تقاضے کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو اس میں کلیئرنگ ایجنٹ کا کوئی کردار نہیں ہوتا، لہٰذا ایسے معاملات میں انہیں بلاجواز ذمہ دار ٹھہرانا ناانصافی کے مترادف ہے۔فیڈریشن کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے کسٹمز انفورسمنٹ کے کنوینر ارشد جمال نے کہا کہ جب کسٹمز حکام سڑکوں پر کنسائمنٹس کو روک لیتے ہیں اور بعد ازاں سامان درست اور قانونی قرار پاتا ہے تو اس دوران درآمد کنندگان کو کنٹینر رینٹ، گاڑیوں کے کرایوں، ڈیمرج اور دیگر اخراجات کی مد میں بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ انفورسمنٹ اہلکاردکانوں کے تالے توڑکراس میں رکھاہواسامان اسمگلنگ کاظاہرکرکے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اورقانونی طورپر درآمدکیاجانے والے سامان کے دستاویزات مہیاکردیئے جاتے ہیں اس کے باوجودانفورسمنٹ کا عملہ سامان کو ریلیزکرنے میں ڈیڑھ سے دوماہ کا عرصہ لگادیتاہے جس کے باعث درآمدکنندگان کو شدیدپریشانی اٹھاناپڑتی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کارروائی غلط معلومات یا کمزور بنیادوں پر کی گئی ہو اور بعد میں کوئی خلاف ورزی ثابت نہ ہو تو متعلقہ کسٹمز اہلکاروں کو بھی جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کا یکساں نظام ہی کاروباری برادری اور کسٹمز کے درمیان اعتماد کی فضا کو فروغ دے سکتا ہے۔کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ عمر شفیق نے تاجر برادری کے مسائل اور تحفظات کو توجہ سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ تمام جائز مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز انفورسمنٹ کا مقصد تجارت میں رکاوٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ شفاف اور قانون کے مطابق تجارتی نظام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسٹمز حکام اور کاروباری برادری کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ ملکی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور کسٹمز ادارہ تجارت دوست پالیسیوں کے فروغ، کاروباری آسانیوں میں اضافے اور قانونی تجارت کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تاجروں اور کسٹمز حکام کے درمیان اعتماد اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔


