Breaking NewsEham Khabar

ایرانی ٹائلوں سے لدے ٹرالروں کو چھوڑنے کے معاملے پر محکمہ محصولات کا بڑا فیصلہ، کسٹمز سپرنٹنڈنٹ ملازمت سے برطرف

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) محکمہ محصولات نے سنگین محکمانہ بے ضابطگیوں، اختیارات سے تجاوز اور سرکاری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ثابت ہونے پر محکمہ کسٹمز کے معطل سپرنٹنڈنٹ سید عدنان کفیل کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں جاری کیے گئے باقاعدہ حکم نامے کے مطابق افسر کے خلاف طویل محکمانہ کارروائی، دو الگ الگ تحقیقات اور متعدد سماعتوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق سید عدنان کفیل کے خلاف اکتوبر 2024 میں نااہلی، بدانتظامی اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے لیے مقرر کیے گئے تحقیقاتی افسر نے مارچ 2025 میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ مذکورہ افسر نے محکمانہ طریقہ کار اور قواعد کی مکمل پاسداری نہیں کی، اپنے اصل بالا افسران کو بروقت آگاہ نہیں کیا اور اپنے اختیارات و دائرہ کار سے تجاوز کیا۔ تاہم پہلی تحقیقاتی رپورٹ میں صرف معمولی سزا کی سفارش کی گئی تھی۔بعد ازاں محکمہ محصولات کی مجاز اتھارٹی نے تحقیقاتی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ تحقیقات میں کئی اہم پہلوﺅں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ چنانچہ دوبارہ مکمل تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا۔ نئے تحقیقاتی افسر نے تمام ریکارڈ، گواہوں کے بیانات اور دستیاب شواہد کا ازسرنو جائزہ لینے کے بعد اپریل 2026 میں اپنی رپورٹ جمع کرائی جس میں افسر کو نااہلی اور بدانتظامی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی گئی۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مذکورہ افسر نے کراچی کے علاقے موچکو کے قریب ایرانی ٹائلوں سے لدے دو ٹرالروں کو روکنے کی کارروائی اپنے طور پر کی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کے لیے نہ تو متعلقہ بالا حکام سے اجازت حاصل کی گئی اور نہ ہی انہیں پیشگی اطلاع دی گئی۔ مزید یہ کہ کارروائی افسر کے مقررہ دائرہ اختیار سے بھی باہر تھی۔محکمانہ موقف کے مطابق دونوں ٹرالروں کو کسٹمز چوکی سے گزارتے وقت متعلقہ عملے کو یہ بتایا گیا کہ گاڑیاں پہلے ہی متعلقہ خفیہ ادارے کی تحویل میں ہیں، جس کے باعث انہیں آگے جانے دیا گیا۔ بعد ازاں یہ گاڑیاں کراچی کے قریب چھوڑ دی گئیں۔ اس واقعے کے بعد متعلقہ افسر، اس کے ڈرائیور اور سپاہی کو تفتیشی ادارے نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔سماعت کے دوران محکمانہ نمائندے نے مو¿قف اختیار کیا کہ مذکورہ کارروائی نہ صرف غیر مجاز تھی بلکہ محکمانہ ضابطہ کار اور مقررہ قواعد کے بھی منافی تھی۔ دوسری جانب سید عدنان کفیل نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کارروائی انہی کی نگرانی میں کی گئی تھی، تاہم انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ٹرالروں کو دستاویزات کی جانچ پڑتال اور محصولات کی ادائیگی کی تصدیق کے بعد چھوڑا گیا تھا۔ تحقیقاتی کارروائی کے دوران وہ اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی قابل قبول ثبوت پیش نہ کر سکے۔مجاز اتھارٹی نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ افسر نے بالا افسران کو اعتماد میں لیے بغیر کارروائی کی، مقررہ ضابطہ کار کی خلاف ورزی کی اور اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جس کے باعث محکمہ کی ساکھ اور قانونی نظام کو نقصان پہنچا۔ اتھارٹی نے تحقیقاتی افسر کی سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے سید عدنان کفیل کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔حکم نامے کے مطابق اکتوبر 2024 سے برطرفی تک کی معطلی کی مدت کو قابل قبول رخصت شمار کیا جائے گا۔ مزید برآں برطرف کیے گئے افسر کو یہ حق بھی دیا گیا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر متعلقہ اپیلی فورم سے رجوع کر سکتے ہیں۔محکمہ محصولات کے حلقوں میں اس فیصلے کو محکمانہ نظم و ضبط کے حوالے سے ایک اہم اور مثال قائم کرنے والا اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اختیارات کے غیر قانونی استعمال اور قواعد کی خلاف ورزی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button