Breaking NewsEham Khabar

ایف بی آر کا لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات کے لیے بڑا اقدام، کسٹمز قوانین میں ترمیم کا مسودہ جاری

کراچی (کسٹم بلیٹن )فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک میں لائیو اسٹاک اور گوشت کی صنعت کو فروغ دینے اور برآمدات بڑھانے کے لیے ایس آراو1752کا مسودہ جاری کردیاہے جس کے تحت زندہ جانوروں کی درآمد، انہیں پروان چڑھانے اور گوشت کی برآمد کے لیے نیا طریقہ کار اور ڈیوٹی و ٹیکس میںچھوٹ کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔ ایس آر او کے مطابق ان تجاویز اور ترمیم پر تمام متعلقہ افراد، اسٹیک ہولڈرز اور عوام سے سات دنوں کے اندر اعتراضات یا تجاویز طلب کی گئی ہیںجس کے بعد حتمی منظوری دی جائے گی۔ اس نئی اسکیم کے تحت زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے سے منسلک اور سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ افراد یا اداروں کو پورٹل ویبوک یا پی ایس ڈبلو کے ذریعے آن لائن درخواست دے کر منظوری حاصل کرنا ہوگی جس کے بعد وہ ٹریک اے اورٹریک بی کی سہولت سے استفادہ کر سکیں گے۔ ٹریک اے کے تحت زندہ جانوروں (بھیڑ، بکریاں، اور مویشی) کو پاکستان درآمد کر کے منظور شدہ فارمز یا فیڈ لاٹ میں پروان چڑھایا جائے گا اور پھر انہیں زندہ ہی برآمد کیا جائے گا، جبکہ ٹریک بی کے تحت درآمد شدہ جانوروں کو پالنے کے بعد رجسٹرڈسلاٹر ہاﺅ سزمیں ذبح کر کے گوشت، اس کی مصنوعات اور ضمنی پیداوار(بائی پروڈکٹ )کو برآمد کیا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت منظور شدہ صارفین کو زندہ جانوروں کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور انکم ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہوگی، جبکہ جانوروں کی خوراک، ویکسین، ادویات اور منرلز جیسے لوازمات بھی بغیر کسی ڈیوٹی و ٹیکس کے درآمد یا حاصل کیے جا سکیں گے تاہم یہ سہولت صرف غیر ملکی جانوروں کے لیے مخصوص ہوگی اور انہیں مقامی جانوروں سے الگ رکھنا لازمی ہوگا۔ ایس آر او میں واضح کیا گیا ہے کہ نئی فیڈ لاٹ، قرنطینہ کی سہولیات یا گوشت کی پروسیسنگ کے نئے پلانٹس قائم کرنے یا توسیع کرنے والے منصوبوں کے لیے پروجیکٹ کی اجازت دی جائے گی جس کے تحت مشینری اور آلات کی ڈیوٹی فری درامد 24 ماہ کی مدت کے لیے ممکن ہو سکے گی اور پہلے مکمل مالی سال میں کم از کم 80 فیصد پیداوار یا جانوروں کی برآمد کی شرط عائد ہوگی۔ درآمد شدہ گائے اور دیگر بڑے مویشیوں کو 180 دنوں اور بھیڑ بکریوں کو 120 دنوں کے اندر اندر برآمد یا ذبح کرنا ہوگا تاہم کسٹمز حکام خاص وجوہات کی بنا پر اس مدت میں توسیع کا اختیار رکھیں گے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ اس پورے عمل کا باقاعدہ آڈٹ کرے گا جبکہ آر ایف آئی ڈی (RFID) ٹیگز اور اینیمل ٹریس ایبلٹی رجسٹر کے ذریعے تمام جانوروں کی سخت نگرانی کی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی یا سامان کو مقامی مارکیٹ میں منتقل کرنے پر جرمانے اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button