وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے تناظر میں متوفی اور طبی بنیادوں پر ریٹائر ملازمین کے بچوں کی ملازمتوں کا معاملہ تاحال زیر غور

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن )فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وزیراعظم معاونتی پیکیج (پی ایم اے پی)اور کنٹریکٹ پالیسی کے تحت متوفی اور طبی بنیادوں پر ریٹائر ہونے والے ملازمین کے بچوں کی تقرریوں سے متعلق تمام درخواستوں اور نمائندگیوں کو فی الحال زیر التوا رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی آئینی عدالت اور مختلف عدالتوں کے حالیہ فیصلوں کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے حتمی رہنمائی حاصل ہونے تک کیا گیا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے ملک بھر کے تمام چیف کمشنرز اور ڈائریکٹر جنرلز ان لینڈ ریونیو فیلڈ فارمیشنز کو ارسال کیے گئے مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران ایسے متعدد کیسز موصول ہوئے ہیں جن میں متوفی یا طبی بنیادوں پر ریٹائر ہونے والے ملازمین کے بچوں نے وزیراعظم معاونتی پیکیج کے تحت ملازمت کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں۔مراسلے کے مطابق 27 فروری 2026 کو وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا کہ جن امیدواروں کے حق میں ملازمت کا قانونی حق پہلے ہی ہو چکا تھا، ان کے معاملات پر سپریم کورٹ کے بعد کے فیصلوں کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے عمومی طور پر مستقبل میں نافذ ہوتے ہیں اور پہلے سے حاصل شدہ حقوق یا مکمل شدہ معاملات کو کالعدم نہیں کرتے۔ایف بی آر کے مطابق ایسے درخواست گزاروں کو دو مختلف درجہ بندیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی قسم میں وہ امیدوار شامل ہیں جنہیں 2023 اور 2024 کے دوران وزیراعظم معاونتی پیکیج کے تحت ملازمت دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کی خلاف ورزی کی بنیاد پر ان کی تقرریاں منسوخ کر دی گئیں۔ دوسری قسم میں وہ امیدوار شامل ہیں جنہوں نے18اکتوبر2024 سے قبل ملازمت کے لیے درخواستیں جمع کرا دی تھیں، لیکن عدالتی حکم امتناعی کے باعث ان کے کیسز پر کارروائی نہ ہو سکی اور وہ زیر التوا رہے۔ایف بی آر نے مراسلے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت قانون و انصاف کی سابقہ آراءکا بھی حوالہ دیا ہے، جن کے مطابق سپریم کورٹ کے18اکتوبر2024 کے فیصلے کے بعد وزیراعظم معاونتی پیکیج کے تحت نئی تقرریاں نہیں کی جا سکتیں، خواہ متعلقہ ملازم کی وفات یا ریٹائرمنٹ اس فیصلے سے قبل ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔ وزارت قانون نے یہ موقف بھی اختیار کیا تھا کہ عدالتی حکم امتناعی کے دوران کی گئی تقرریاں قانونی جواز سے محروم تھیں، اس لیے منسوخ شدہ تقرریوں کی بحالی ممکن نہیں۔دوسری جانب ایف بی آر نے پشاور ہائی کورٹ کے ایک اہم فیصلے کی جانب بھی توجہ دلائی ہے، جس میں وزیراعظم معاونتی پیکیج کے تحت تقرر پانے والے ایک ملازم کی برطرفی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے تمام واجبات اور مراعات سمیت بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل ایسی تقرریاں ایک رائج اور قانونی طور پر تسلیم شدہ پالیسی کے تحت کی جاتی رہی ہیں، اس لیے انہیں تحفظ حاصل ہے۔ان متضاد عدالتی اور قانونی آراءکے پیش نظر ایف بی آر نے معاملے پر حتمی قانونی وضاحت حاصل کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن سے دوبارہ رجوع کیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن نے 16 جون 2026 کو اپنے جواب میں آگاہ کیا کہ معاملہ تاحال زیر غور ہے اور حتمی فیصلہ ہونے پر متعلقہ اداروں کو مطلع کر دیا جائے گا۔ایف بی آر نے تمام فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کی حتمی رہنمائی موصول ہونے تک وزیراعظم معاونتی پیکیج اور کنٹریکٹ پالیسی کے تحت موصول ہونے والی تمام درخواستوں، اپیلوں اور نمائندگیوں پر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور انہیں زیر التوا رکھا جائے۔


