Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

اربوں روپے کے محصولات کی مبینہ چوری کا انکشاف، ایف آئی اے کا گو پیٹرولیم، ٹرمینل ون لمیٹڈ اور کسٹمز حکام کے خلاف مقدمہ درج

  • کراچی(کسٹم بلیٹن) وفاقی تحقیقاتی ادارے نے درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی آڑ میں قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچانے، محصولات اور دیگر سرکاری واجبات کی مبینہ چوری، جعلی ریکارڈ سازی اور سرکاری امانت میں خیانت کے سنگین الزامات پر ایک بڑا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں معروف تیل کمپنی، نجی ذخیرہ گاہ کے منتظمین اور متعلقہ سرکاری محکموں کے بعض افسران و اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ مزید افراد کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔وفاقی تحقیقاتی ادارے کے کارپوریٹ جرائم شعبہ کراچی میں درج مقدمے کے متن کے مطابق تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کو سرکاری محصولات اور دیگر واجبات کی ادائیگی تک کسٹمز کی نگرانی میں قائم بندرگاہی ذخیرہ گاہوں میں رکھا جاتا ہے اور ان مصنوعات کو اس وقت تک فروخت، استعمال یا منتقل نہیں کیا جا سکتا جب تک متعلقہ قانونی کارروائی مکمل نہ ہو اور تمام واجبات ادا نہ کر دیے جائیں۔تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ایک نجی تیل کمپنی نے پورٹ قاسم میں قائم ایک لائسنس یافتہ ذخیرہ گاہ میں محفوظ اعلیٰ معیار کے پیٹرول کی بڑی مقدار کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فروخت کر دیا۔ ریکارڈ کے مطابق تقریباً چار ہزار سات سو چوالیس میٹرک ٹن پیٹرول کو سرکاری واجبات ادا کیے بغیر فروخت کیا گیا جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق ذخیرہ گاہ کے منتظم کے قبضے سے حاصل ہونے والے کمپیوٹر کے فرانزک معائنے میں ایسے ریکارڈ اور معلومات ملی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی بار پیٹرول کی ترسیل قانونی اجازت ناموں اور واجبات کی ادائیگی کے بغیر کی گئی۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ پیٹرول کی منتقلی کے تمام مراحل کا باقاعدہ اندراج موجود تھا جس سے مبینہ بے ضابطگیوں کی تصدیق ہوتی ہے۔تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار ملک کے دیگر حصوں میں بھی استعمال کیا گیا۔ درآمد شدہ پیٹرول کو پورٹ محمد بن قاسم سے ملک کے مختلف علاقوں میں واقع بند ذخیرہ گاہوں تک پائپ لائنوں کے ذریعے منتقل کیا گیا، تاہم ریکارڈ اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق پایا گیا۔ دستاویزی ریکارڈ کے مطابق22جون2026 تک ایک مخصوص ذخیرہ گاہ میں39121میٹرک ٹن پیٹرول موجود ہونا چاہیے تھا، جبکہ ذخیرہ گاہ کی مجموعی گنجائش ہی 26ہزار میٹرک ٹن تھی، جو خود ایک ناممکن صورت حال قرار دی گئی۔مشترکہ معائنے کے دوران جب ذخیرہ گاہوں میں موجود پیٹرول کی مقدار کی جانچ کی گئی تو وہاں صرف 7 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول موجود پایا گیا۔ اس طرح تقریباً32 ہزار اکیاسی میٹرک ٹن پیٹرول ریکارڈ سے غائب نکلا، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اسے سرکاری واجبات ادا کیے بغیر خفیہ طور پر فروخت کر دیا گیا۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق اس کارروائی سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔تحقیقات کے دوران پورٹ قاسم میں واقع ایک نجی ذخیرہ گاہ کے منتظم پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے مشترکہ معائنے میں رکاوٹ ڈالی، مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کیا، ذخیرہ شدہ مال کی تفصیلات چھپائیں اور سرکاری ٹیم کے سامنے تصدیقی دستاویزات پر دستخط کرنے سے بھی گریز کیا۔ مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طرز عمل نے قانونی تحقیقات میں رکاوٹ پیدا کی۔وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) کے مطابق نامزد ملزمان نے باہمی ملی بھگت سے سرکاری نگرانی میں موجود پیٹرولیم مصنوعات کو غیر قانونی طور پر نکالا، فروخت کیا، ریکارڈ میں ردوبدل کیا اور جعلی اندراجات کے ذریعے اصل صورتحال چھپانے کی کوشش کی۔ اس مبینہ کارروائی کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان جبکہ متعلقہ افراد اور اداروں کو غیر قانونی مالی فائدہ پہنچا۔مقدمے میں ایک نجی تیل کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں، متعلقہ ذخیرہ گاہ کے منتظمین اور ذمہ دار افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پورٹ محمد بن قاسم، فیصل آباد اور لاہور مشرقی کے کسٹمز محکموں کے متعلقہ افسران و اہلکاروں کا کردار بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ مزید برآں تیل و گیس کے نگران ادارے اور دیگر ممکنہ سہولت کاروں کے کردار کا تعین بھی دورانِ تفتیش کیا جائے گا۔وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق مقدمہ درج کرنے کی منظوری زونل ڈائریکٹر کراچی نے دی جبکہ تفتیش کی ذمہ داری اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیہ ارشد بٹ کے سپرد کی گئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے اور مزید شواہد کی روشنی میں نئے انکشافات اور اضافی گرفتاریاں بھی عمل میں آسکتی ہیں۔تجارت اور توانائی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے حلقوں نے اس مقدمے کو حالیہ برسوں میں پیٹرولیم شعبے میں سامنے آنے والے سب سے بڑے مالیاتی اور محصولات سے متعلق اسکینڈلز میں سے ایک قرار دیا ہے، جس کے ملکی معیشت، محصولات کی وصولی اور توانائی کے شعبے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button