ایف بی آر اور ان لینڈ ریونیو کی کارروائیاں غیر قانونی قرار، 49 مقدمات ختم

کراچی (کسٹم بلیٹن) اسپیشل جج کسٹمز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی اسمگلنگ کراچی ڈاکٹر شابانہ وحید نے سیلز ٹیکس فراڈ، جعلی انوائسز اور مبینہ ٹیکس چوری سے متعلق 49 اہم مقدمات میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کردیا۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ وفاقی ادارہ برائے محصولات، ان لینڈ ریونیو حکام، ریجنل ٹیکس دفاتر، کارپوریٹ ٹیکس دفتر، بڑے ٹیکس دہندگان کے دفتر اور ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی جانب سے درج کیے گئے بیشتر مقدمات بنیادی قانونی، آئینی اور طریقہ کار کی سنگین خامیوں سے بھرپور تھے، اس لیے ان پر فوجداری کارروائی برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی مقدمے “ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ایف بی آر میسرز تاج انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ کے بعد کسی بھی ٹیکس دہندہ کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے سے قبل سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 11 کے تحت قانونی اسیسمنٹ، شوکاز نوٹس، نوٹس کی قانونی ترسیل اور ٹیکس واجبات کا حتمی تعین لازمی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان بنیادی تقاضوں کے بغیر درج کی جانے والی ایف آئی آرز اور گرفتاریوں کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوسکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ متعدد مقدمات میں پہلے ایف آئی آرز درج کی گئیں جبکہ بعد ازاں اسیسمنٹ، شوکاز نوٹس،اواین اوجاری کیے گئے، جو قانون میں طے شدہ طریقہ کار کے سراسر خلاف ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ کئی مقدمات میں شوکاز نوٹس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا، نوٹس کی قانونی سروس ثابت نہیں کی گئی، یکطرفہ اسیسمنٹ کی گئی جبکہ بعض کیسز میں آرڈر اِن اوریجنل بھی دستیاب نہیں تھے۔خصوصی عدالت نے مزید کہا کہ کئی مقدمات میں ایف آئی آر میں درج مبینہ ٹیکس فراڈ کی رقم اور بعد میں جاری کی گئی اسیسمنٹ میں واضح تضاد موجود تھا۔ بعض کیسز میں کروڑوں روپے کے ٹیکس فراڈ کے الزامات لگائے گئے، مگر بعد کی کارروائی میں ٹیکس واجبات کم یا مختلف نکلے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجداری مقدمات غیر حتمی اور متنازع ٹیکس تخمینوں کی بنیاد پر قائم کیے گئے۔عدالت نے آئین کے آرٹیکل 4 اور10-A کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ہر شہری کو قانون کے مطابق کارروائی اور منصفانہ سماعت کا بنیادی حق حاصل ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر گرفتاریوں اور ایف آئی آرز کا اندراج آئینی ضمانتوں، منصفانہ ٹرائل اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔عدالت نے اپنے سخت ریمارکس میں کہا کہ محض جعلی یا فلائنگ انوائسز کے الزامات لگا دینا کافی نہیں، بلکہ فوجداری کارروائی سے پہلے ٹیکس واجبات کا قانونی تعین ناگزیر ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ سیلز ٹیکس فراڈ ایک سنگین جرم ہے، تاہم کوئی بھی الزام قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔اسپیشل جج ڈاکٹر شابانہ وحید نے اپنے فیصلے میں واضح الفاظ میں قرار دیا کہ قانونی اسیسمنٹ اور ٹیکس واجبات کے تعین کے بغیر ایف آئی آر، گرفتاری اور فوجداری کارروائی اختیار سے تجاوز اور غیر قانونی تصور ہوگی۔عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرتے ہوئے انہیں بری کردیا، تاہم وفاقی ادارہ برائے محصولات اور متعلقہ ٹیکس حکام کو یہ آزادی بھی دی کہ وہ قانون کے مطابق دوبارہ اسیسمنٹ، ریکوری یا نئی کارروائی شروع کرسکتے ہیں، بشرطیکہ تمام قانونی تقاضے مکمل کیے جائیں۔




