تانبے کی برآمد 1 ارب 30 کروڑ ڈالر سے تجاوزکرگئی

کراچی(کسٹم بلیٹن) پاکستان کی تانبے کی برآمدات نے رواں مالی سال کے صرف آٹھ ماہ میں 1.30 ارب ڈالر کی تاریخی سطح عبور کرلی ہے، جسے ملکی صنعتی برآمدات کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی اور غیر روایتی برآمدی شعبوں میں نمایاں پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ تانبے کی برآمدات میں اس غیر معمولی اضافے نے پاکستان کے غیر لوہی دھاتوں کے شعبے کو عالمی سطح پر نئی شناخت دلانا شروع کردی ہے۔ کسٹمز برآمدی اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں تانبے کے بارز کی برآمدات 5 کروڑ 28 لاکھ 94 ہزار ڈالر تھیں، جو مسلسل اضافے کے بعد مارچ 2026 میں بڑھ کر 39 کروڑ 31 لاکھ 26 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس طرح صرف چند ماہ میں برآمدات میں تقریباً چھ گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس شعبے کی تیز رفتار ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق مجموعی 1.30 ارب ڈالر کی برآمدات میں سے تقریباً 1.02 ارب ڈالر مالیت کے تانبے کے بارز چین کو برآمد کیے گئے، جبکہ باقی 28 کروڑ ڈالر دیگر تانبے سے تیار کردہ مصنوعات پر مشتمل تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی ترسیل، الیکٹرانکس، صاف توانائی، الیکٹرک گاڑیوں اور صنعتی پیداوار میں تانبے کے بڑھتے ہوئے استعمال نے عالمی سطح پر اس دھات کی مانگ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ صنعتی ذرائع کے مطابق چین کے علاوہ پاکستانی تانبے کی مصنوعات امریکا اور کینیڈا کی منڈیوں میں بھی جگہ بنا رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں تیار اور ری سائیکل شدہ دھاتی مصنوعات عالمی معیار کے مطابق تسلیم کی جارہی ہیں۔ صنعتی حلقوں نے اس کامیابی کا بڑا سبب حکومت کی برآمدی سہولت اسکیم کو قرار دیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جاری کردہ ایس آر او1436کے تحت درآمدی لوہے اور اسٹیل پر ڈیوٹی اور ٹیکس درآمد کے وقت وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر پراسیسنگ کے ذریعے حاصل ہونے والے تانبے کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے طور پر برآمد کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نظام نے ایک طرف حکومتی محصولات کے تحفظ کو یقینی بنایا جبکہ دوسری جانب غیر قانونی اور غیر دستاویزی تجارت کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ملک کے اندر ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں خام مال برآمد کرنے کے بجائے تیار شدہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمی سے برآمد کنندگان، ریفائنریز، لاجسٹکس کمپنیوں، گودام فراہم کرنے والے اداروں، مزدوروں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے، جس سے ملکی معیشت میں روزگار اور زرِ مبادلہ کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت برقرار رکھی گئی تو آنے والے برسوں میں پاکستان کی تانبے کی برآمدات 2 سے 3 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ عالمی سطح پر توانائی کے منصوبوں، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید صنعتی شعبوں میں تانبے کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب اس شعبے کے روشن مستقبل کی نشاندہی کررہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے شفاف نگرانی،موثر ضابطہ کاری اور پالیسیوں کا تسلسل انتہائی ضروری ہوگا تاکہ عالمی خریداروں کا اعتماد برقرار رکھا جاسکے اور پاکستان اپنی نئی ابھرتی ہوئی برآمدی صنعت کو مزید مستحکم بنا سکے۔




