Breaking NewsEham KhabarExclusive Reports

ایف ٹی او کا آر ٹی او حیدرآباد کے خلاف سخت فیصلہ، سات سال پرانے ودہولڈنگ ٹیکس کیس میں تیسری بار کارروائی کالعدم قرار

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے ان لینڈریونیو حیدرآباد کے ودہولڈنگ ٹیکس زون کی جانب سے ایک ہی نوعیت کے ٹیکس کیس میں مسلسل تیسری مرتبہ مبینہ بدانتظامی کی نشاندہی کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ متعلقہ ٹیکس افسر کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے اور شکایت کنندہ کو مکمل سماعت کا موقع فراہم کرتے ہوئے کیس ازسرنو نمٹایا جائے۔یہ فیصلہ میسرز منگلانی رائس اینڈ دال ملز، مٹیاری کی جانب سے دائر کی گئی شکایت پر جاری کیا گیا، جس میں ودہولڈنگ ٹیکس یونٹ، آر ٹی او حیدرآباد کے ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس2001 کی دفعہ 161(1) کے تحت ٹیکس سال 2019 کے لیے جاری کردہ حکم نامے کو چیلنج کیا گیا تھا۔شکایت کنندہ کے مطابق محکمہ ان لینڈ ریونیو نے کمپنی کے خلاف 73 لاکھ روپے سے زائد کا ٹیکس ڈیمانڈ آرڈر جاری کیا، حالانکہ وفاقی ٹیکس محتسب اس سے قبل دو مرتبہ اسی نوعیت کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ کو ہدایت دے چکا تھا کہ کمپنی کو موثر سماعت کا موقع دیا جائے اور ریکارڈ کا منصفانہ جائزہ لینے کے بعد نیا فیصلہ کیا جائے۔فیصلے میں انکشاف کیا گیا کہ پہلی مرتبہ نومبر 2021 میں جاری کیے گئے آرڈر کے خلاف شکایت پر ایف ٹی او نے قرار دیا تھا کہ حکم نامہ نہ صرف قانونی تقاضوں کے منافی تھا بلکہ شکایت کنندہ کو مناسب سماعت کا وقت بھی فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ بعد ازاں محکمہ نے کیس دوبارہ کھولا لیکن ستمبر 2024 میں تقریباوہی فیصلہ دوبارہ جاری کر دیا گیا، جس پر کمپنی نے دوسری مرتبہ ایف ٹی او سے رجوع کیا۔دوسری شکایت کی سماعت کے دوران محکمانہ نمائندے نے خود تسلیم کیا تھا کہ ٹیکس دہندہ کو صرف ایک نوٹس جاری کیا گیا اور اس کی جانب سے مہلت طلب کرنے کی درخواست منظور ہونے کے باوجود بعد میں یکطرفہ فیصلہ سنا دیا گیا۔ نمائندے نے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ بعض خریداریوں کا تعلق براہِ راست کاشتکاروں سے تھا، جن پر ودہولڈنگ ٹیکس کی متعلقہ دفعات لاگو نہیں ہوتیں اور اس بنیاد پر ٹیکس ڈیمانڈ میں ردوبدل کیا جا سکتا تھا۔وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے تازہ فیصلے میں قرار دیا کہ متعلقہ افسر نے ایک مرتبہ پھر 25 نومبر 2025 کو تقریبا وہی حکم نامہ جاری کر دیا اور سابقہ کارروائیوں میں سامنے آنے والی قانونی خامیوں اور محکمے کے اپنے اعترافات کو بھی نظر انداز کر دیا۔فیصلے کے مطابق ٹیکس افسر نے 5 کروڑ 41 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی دھان کی خریداریوں پر 7.75 فیصد کے تناسب سے ودہولڈنگ ٹیکس عائد کر دیا، حالانکہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا تھا کہ خریداری کا ایک بڑا حصہ براہِ راست کاشتکاروں سے کیا گیا تھا۔ مزید برآںدیگر براہِ راست اخراجات اوردیگر بالواسطہ اخراجات پر بھی ٹیکس عائد کیا گیا، لیکن کسی مخصوص ادائیگی یا اس کے وصول کنندہ کی نشاندہی نہیں کی گئی۔وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تازہ حکم نامہ ٹیکسیشن میں من مانے طرزعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ محکمہ نے تمام ادائیگیوں پر ٹیکس عائد کرنے کی کوئی معقول بنیاد فراہم نہیں کی اور نہ ہی یہ ثابت کیا کہ تمام وصول کنندگان نان فائلرز تھے جن پر 7.75 فیصد شرح لاگو کی جا سکتی تھی۔ محتسب نے قرار دیا کہ ٹیکس افسر بینک ریکارڈ حاصل کرکے اصل وصول کنندگان کی شناخت اور ان کی فائلر حیثیت کا تعین کر سکتا تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔وفاقی ٹیکس محتسب نے ان اقدامات کو ایف ٹی او آرڈیننس کے تحت بدانتظامی قرار دیتے ہوئے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ کیس دوبارہ کھولا جائے، شکایت کنندہ کو مکمل اور موثر سماعت کا موقع دیا جائے اور اگر مزید کارروائی ضروری سمجھی جائے تو کیس کسی دوسرے افسر کے سپرد کیا جائے۔ ایف بی آر کو 45 دن کے اندر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔فیصلے میں ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ایف ٹی او ہیڈکوارٹر کے رجسٹرار کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس کیس میں مسلسل تین مرتبہ سامنے آنے والی بدانتظامی کا الگ سے جائزہ لیں اور اپنی رپورٹ مزید کارروائی کے لیے ایف بی آر کو ارسال کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button