ایرانی کارگو کی نقل و حمل کا نیا طریقہ کار جاری

اسلام آباد(کسٹم بلیٹن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پاکستان اور ایران کے درمیان 2008میں سڑک کے ذریعے مسافروں اور سامان کی بین الاقوامی نقل و حمل کے معاہدے اور خلیجی خطے میں موجودہ جنگی نوعیت کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران کے لیے اور ایران سے آنے والے کارگو کی نقل و حمل کو منظم بنانے کے لیے کسٹمز جنرل آرڈر نمبر05آف2026جاری کر دیا ہے۔جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ایران کے ساتھ سامان کی آمد و رفت کے لیے ٹرانسپورٹیشن کے مختلف طریقوں اور نگرانی کے نظام کا تعین کر دیا گیا ہے تاکہ تجارتی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کارگو کی حفاظت اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ایف بی آر کے مطابق ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل روٹیئر (ٹی آئی آر) نظام کے تحت ایران کے لیے یا وہاں سے سامان کی نقل و حمل کسٹمز رولز 2001 کی شق29میں درج طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی۔ اس نظام کے تحت سامان کی بین الاقوامی ترسیل کے لیے پہلے سے موجود قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹی آئی آر نظام کے علاوہ ایران کے لیے ٹرانزٹ کارگو کی نقل و حمل کسٹمز رولز2001کی شق43میں وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق ہوگی۔تاہم زمینی راستوں کے حوالے سے رول1054میں درج روٹس کی بجائے وزارت تجارت کی جانب سے مخصوص اور مقرر کردہ راستوں کو استعمال کیا جائے گا۔ایف بی آر نے ایران کے لیے جانے والے کارگو کی کراس اسٹفنگ کی بھی اجازت دے دی ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں اور آف ڈاک ٹرمینلز پر کسٹمز رولز2001 کی شق43کی ذیلی شق بارہ کے تحت کارروائی کی جا سکے گی۔اس اقدام سے ایران کے لیے برآمدی اور ٹرانزٹ سامان کی ہینڈلنگ میں آسانی پیدا ہونے کی توقع ہے۔کسٹمز جنرل آرڈر کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی اور اس کے علاقائی دفاتر کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ یہ ادارے ایران کے لیے اور ایران سے آنے والے کارگو کی موثر نگرانی، مانیٹرنگ اور آپریشنل سہولت کاری کو یقینی بنائیں گے تاکہ سامان کی نقل و حمل مقررہ قواعد کے مطابق انجام پائے۔ایف بی آر نے ہدایت کی ہے کہ ایران جانے والے تمام کارگو کی روزانہ کی بنیادوں پر موثر مصالحت کی جائے تاکہ راستے میں سامان کی چوری، خرد برد یا غیر قانونی نقل و حرکت کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔ اگر کسی بھی مرحلے پر خلاف ورزی سامنے آئے، رپورٹ ہو یا پکڑی جائے تو کسٹمز ایکٹ 1969 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مزید برآں ڈائریکٹوریٹ جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسٹمز آپریشنز ونگ، ایف بی آر کو ہفتہ وار بنیادوں پر مقررہ فارمیٹ کے مطابق رپورٹ ارسال کرے تاکہ کارگو کی نقل و حمل، نگرانی اور تعمیل کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے۔نئے حکم نامے کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل ریفارمز اینڈ آٹومیشن کو بھی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ادارہ متعلقہ الیکٹرانک ماڈیولز اور کمپیوٹرائزڈ نظام میں ضروری تبدیلیاں کرے گا تاکہ ایران کے لیے کارگو کی نقل و حرکت کے عمل کو مزید موثر، شفاف اور بلا تعطل بنایا جا سکے۔



